کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 279

کرامات الصادقین — Page 138

كرامات الصادقين ۱۳۸ اُردو ترجمہ ومع ذلك فيه إشارة إلى اور اس کے ساتھ ہی الْحَمْدُ لِلہ میں ایک یہ أنه من هلك بخطاه في أمر اشارہ بھی ہے کہ جو معرفت باری تعالیٰ کے معاملہ معرفة الله تعالى أو اتخذ إلها میں اپنے بداعمال سے ہلاک ہوا یا اس کے سوا کسی غیره فقد هلك من رفض اور کو معبود بنالیا تو سمجھو کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کے رعاية كمالاته وترک التأنق کمالات کی طرف سے اپنی توجہ پھیر لینے ، اس کے في عجائباته والغفلة عما يليق عجائبات کا نظارہ نہ کرنے اور جو اُمور اس کے بذاته كما هو عادة المبطلين شایان شان ہیں ان سے ۔ باطل پرستوں کی طرح ألا تنظر إلى النصارى أنهم غفلت برتنے کے نتیجہ میں ہلاک ہو گیا۔ کیا تو دعوا إلى التوحيد فما أهلكهم نصاری کو نہیں دیکھتا کہ انہیں تو حید کی دعوت دی گئی إلا هذه العلة وسولت لهم تو انہیں اسی بیماری نے ہلاک کیا اور ان کے گمراہ النفس المضلة والشهوة المزلّة کرنے والے نفس اور پھیلا دینے والی خواہشات أن اتخذوا عبدًا إلها وارتضعوا نے ان کے لئے ( یہ گمراہ کن ) خیال خوبصورت عقار الضلالة والجهالة ونسوا کرکے دکھا دیا کہ انہوں نے ایک (عاجز) کمال الله تعالى وما يجب بندے کو خدا بنا لیا اور گمراہی اور جہالت کی شراب لذاته ونحتو الله البنات لی لی ۔ اللہ تعالیٰ کے کمال اور اس کی صفات ذاتیہ والبنين۔ ولو أنهم أمعنوا کو بھول گئے اور اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں أنظارهم في صفات اللہ تعالی تراش لیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے وما يليق له من الكمالات شایان شان کمالات پر گہری نظر ڈالتے تو ان کی لما أخطأ توسمُهم وما كانوا عقل خطانہ کرتی اور وہ ہلاک ہونے والوں میں سے من الهالكين۔ فأشار الله نہ ہو جاتے ۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف تعالى ههنا أن القانون العاصم اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ جل شانہ کی معرفت من الخطأ في معرفة البارئ کے بارہ میں غلطی سے بچانے والا قانون یہ ہے کہ ۲۳۰