کرامات الصادقین — Page 133
كرامات الصادقين ۱۳۳ اُردو ترجمه الفاتحة قد أحاطت بتفسيرها كيونكه (سورۃ ) فاتحہ کی تفسیر اس کی تفسیر پر محیط وأغنى عنها ببيان مبين۔ہے اور اس تفسیر نے بیان مبین کے ذریعہ ہمیں والآن نشرع في المقصود بسم اللہ کی تفسیر سے مستغنی کر دیا ہے۔اب وكلين على الله النصير ہم معین و مددگار اللہ پر توکل کرتے ہوئے اصل المعين۔الْحَمْدُ لِلَّهِ هو مقصود کا آغاز کرتے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ۔القـنـاء بـالـلـســان على حمد اُس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی صاحب الجميل للمقتدر النبيل على اقتدار شریف ہستی کے اچھے کاموں پر اس کی قصد التبجيل والكامل التام تعظیم و تکریم کے ارادہ سے زبان سے کی من افراده مختص بالرب جائے اور کامل ترین حمد رب جلیل سے مخصوص الجليل و کل حمد من ہے اور ہر قسم کی حمد کا مرجع خواہ وہ تھوڑی ہو یا الكثير والقليل يرجع إلى زياده ہمارا وہ ربّ ہے جو گمراہوں کو ہدایت ربنا الذى هو هادى الضال دینے والا اور ذلیل لوگوں کو عزت بخشنے والا ومُعِزّ الذليل وهو محمود ہے۔اور وہ محمودوں کا محمود ہے ( قابل حمد ہستیوں کا بھی محمود ہے )۔المحمودين۔والشكر يُفارق الحمد اکثر علماء کے نزدیک لفظ شکر حمد سے اس پہلو بخصوصيّته بالصفات المتعدية میں فرق رکھتا ہے کہ وہ ایسی صفات سے مختص ہے عند أكثر العلماء والمدح يفارقه جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے والی ہوں اور لفظ مدح في جميل غير اختیاری کما کا حمد سے فرق یہ ہے کہ مدح کا غیر اختیاری لايخفى على البلغاء خوبیوں پر بھی اطلاق ہوتا ہے اور یہ امر فصیح و بلیغ والأدباء الماهرين۔علماء اور ماہر ادباء سے مخفی نہیں۔۲۲۵