کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 279

کرامات الصادقین — Page 133

۶۵ اردو ترجمہ ۱۳۳ كرامات الصادقين الفاتحة قد أحاطت بتفسيرها كيونكہ (سورۃ ) فاتحہ کی تفسیر اس کی تفسیر پر محیط وأغنى عنها ببيان مبين۔ ہے اور اس تفسیر نے بیان مبین کے ذریعہ ہمیں والآن نشرع في المقصود بِسمِ اللہ کی تفسیر سے مستغنی کر دیا ہے ۔ اب متوكلين على الله النصير هم معین و مددگار اللہ پر توکل کرتے ہوئے اصل المعين۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ مقصود کا آغاز کرتے ہیں ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ هو الثناء باللسان على حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی صاحب الـجـمـيــل لـلـمقتدر النبيل على اقتدار شریف ہستی کے اچھے کاموں پر اس کی قصد التبجيل والكامل التام تعظیم و تکریم کے ارادہ سے زبان سے کی من افراده مختص بالرب جائے اور کامل ترین حمد رب جلیل سے مخصوص الجليل و کل حمد من ہے اور ہر قسم کی حمد کا مرجع خواہ وہ تھوڑی ہو یا الكثير والقليل يرجع إلى زیادہ ہمارا وہ ربّ ہے جو گمراہوں کو ہدایت ربنا الذي هو هادى الضال دینے والا اور ذلیل لوگوں کو عزت بخشنے والا ومُعِزّ الذليل وهـو مـحـمـود ہے۔ اور وہ محمودوں کا محمود ہے ( قابلِ حمد المحمودين۔ والشكر يفارق الحمد ہستیوں کا بھی محمود ہے ) ۔ اکثر علماء کے نزدیک لفظ شکر حمد سے اس پہلو بخصوصيته بالصفات المتعدية میں فرق رکھتا ہے کہ وہ ایسی صفات سے مختص ہے عند أكثر العلماء والمدح يفارقه جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے والی ہوں اور لفظ مدح في جميــل غير اختياري كما كا حمد سے فرق یہ ہے کہ مدح کا غیر اختیاری لا يخفى على البلغاء خوبیوں پر بھی اطلاق ہوتا ہے اور یہ امر فصیح و بلیغ والأدباء الماهرين۔ علماء اور ماہر ادباء سے مخفی نہیں ۔ ۲۲۵