کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 279

کرامات الصادقین — Page 129

كرامات الصادقين ۱۲۹ اُردو ترجمہ وَنَسْتَصْغِرُ الدُّنْيَا وَخَضْرَانَهَا مَعًا فَلَا نَجْتَنِي مِنْهَا وَلَا تُسْتَخْلَبُ اور ہم دنیا اور اس کی رونق و خوبصورتی کو ایک ساتھ ہی حقیر سمجھتے ہیں سو ہم اس کا کوئی پھل نہیں توڑتے اور نہ ہی اس کے کانٹوں سے مجروح ہونا چاہتے ہیں۔اَلَا أَيُّهَا الشَّيْحُ الَّذِي أَكْفَرْتَنِي وَإِنِّي بِزَعْمِكَ كَافِرٌ ثُمَّ هَيْدَبُ سُن لے اے شیخ کہ جس نے مجھے کا فر کہا ہے ! اور میں تیرے خیال میں کا فربھی ہوں پھر عا جز بھی۔فَتِلْكَ بِعَونِ اللَّهِ مِنِّي قَصِيدَةٌ مُحَبَّرَةٌ وَنَظِيرَهُ مِنْكَ أَطْلُبُ سوا اللہ کی مدد سے میری طرف سے یہ قصیدہ لکھا ہوا موجود ہے اور میں اس نظم کی نظیر تجھ سے طلب کرتا ہوں۔وَهَذِى ثَلَتْ قَدْ نَظَمُنَا وَهِدْيَةٌ بِبَحْرٍ خَفِيفِ لِلْأَحِبَّاءِ أَنسَبُ اور یہ تین قصیدے ہم نے نظم کئے ہیں اور یہ لوگوں کے لئے راہنمائی ہیں۔ہلکے پھلکے بحر میں جو دوستوں کے لئے بہت مناسب حال ہے۔فَإِنْ كُنْتَ ذِي عِلْمٍ فَاتِ نَظِيرَهَا وَإِنْ تَعْجَزَنْ جَهْلًا فَكِبْرُكَ أَعْجَبُ پس اگر تو صاحب علم ہے تو اس کی نظیر لا۔اور اگر تو جہالت کی وجہ سے عاجز آ جائے تو تیرا تکبر بہت حیران کن ہے۔۲۲۱