کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 279

کرامات الصادقین — Page 120

كرامات الصادقين ۱۲۰ اُردو ترجمہ وَقَدْ كُذِبَتْ قَبْلِى عِبَادٌ ذَوُوا التَّقَى فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِبُوا وَتَرَقَّبُوا مجھ سے پہلے کئی تقوی شعار بندے جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا تکذیب کیا جانے پر اور انجام کا انتظار کیا۔فَلَمَّا نَسُوا فَحْوَاءَ مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَسِفَ وُجُوهُ قُلُوبِهِمْ مَّا قَلَّبُوا جب وہ ( مخالف ) اس بات کا مطلب، جس کے ذریعہ نصیحت کئے گئے تھے، بھول گئے تو ان کے دلوں کی صورت جو انہوں نے بدل دی تھی متغیر کر دی گئی۔تَحَامَوْنِ بِالْحِقْدِ الْمُدَمِرِ كُلُّهُمْ وَأَمَّهُمُ الشَّيْخُ السَّفِيهُ الْمُعْجَبُ انہوں نے مجھ سے اجتناب کیا ہلاک کرنے والے کینے کی وجہ سے سب کے سب نے۔اور ایک کم عقل مغرور شیخ ان کا پیشوا بنا ہے۔وَكَيْفَ أَخَافُ عِنَادَ قَوْمٍ مُّفْنِدٍ وَيَعْتَامُنِي رَبِّي عَلَيْهِمْ وَيَصْحَبُ اور میں جھوٹی قوم کے عناد سے کیسے ڈروں اس حال میں کہ میرا رب مجھ کو ان پر فضیلت دے رہا ہے اور میرا ساتھ دے رہا ہے۔فَابْغِي رِضَا رَبِّي وَمَا أَخْشَى الْعِدَا وَلِحَرْبِ أَعْدَاءِ الْهُدَى أَتَاهَبُ پس میں اپنے رب کی رضا چاہتا ہوں اور دشمنوں سے ڈرتا نہیں اور ہدایت کے دشمنوں سے جنگ کے لئے میں تیاری کر رہا ہوں۔وَلِكُلِّ نَبَإِ مُسْتَقَرٌّ مُعَيَّنْ وَمَا تُبْسَلُ نَفْسٌ قَبْلَ وَقْتِ يُكْتَبُ ا اور ہر خبر کے لیے ایک وقت معین ہے اور کوئی نفس بھی مقد روقت سے پہلے ہلاک نہیں کیا جاتا۔وَإِنَّ هُدَى اللَّهِ الْعَلِيمِ هُوَ الْهُدَى وَيَعْلَمُ مَا نَدَعَنُ وَمَا نَحْنُ نَكْسِبُ اور اللہ علیم کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور وہ جانتا ہے جو بات ہم چھوڑ دیتے ہیں اور جو کرتے ہیں۔۲۱۲