کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 279

کرامات الصادقین — Page 111

كرامات الصادقين اُردو ترجمہ فَإِنْ كُنْتُ كَذَّابًا فَأَنْتَ مُنَعَمْ وَإِنْ كُنْتُ صِدِّيقًا فَسَوْفَ تُعَذِّبُ سواگر میں کذاب ہوں تو تو انعام پائے گا اور اگر میں سچا ہوں تو تو ضرور عذاب دیا جائے گا۔اَتُكْفِرُنِي فِي اَمْرِ عِيْسَى تَجَاسُرًا وَكَذَّبْتَنِي خِطَا وَّلَسْتَ تُصَوِّبُ کیا تو عیسی کے معاملہ میں جسارت سے میری تکفیر کرتا ہے۔اور تو نے غلطی سے میری تکذیب کی ہے اور تو درست راہ پر نہیں۔تُوُفِّيَ عِيسَى هَكَذَا قَالَ رَبُّنَا صَرِيحًا فَصَدَّقْنَا وَلَا نَتَرَيَّبُ عیسی تو وفات پا گیا ہے۔اسی طرح ہمارے رب نے صراحت سے کہا ہے سو ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور شک نہیں کرتے۔وَكَيْفَ نُكَذِبُ آيَةٌ هِيَ قَوْلُهُ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ أَهَمُ وَ أَوْجَبُ اور کیسے جھٹلا سکتے ہیں ہم اس آیت کو جو خدائی قول ہے اور خدا کی باتوں کی تصدیق تو بہت ہی ضروری اور بہت ہی واجب ہے۔نَهَى خَالِقِي أَنُ نُحْيِيَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ وَتِلْكَ الَّتِي كَفَّرْتَ مِنْهَا وَتَنْصَبُ میرے خالق نے منع کر دیا ہے کہ ہم ابنِ مریم کو زندہ قرار دیں۔یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے تو نے تکفیر کی ہے اور تو یونہی مشقت اٹھا رہا ہے۔وَ لَمْ يَبْقَ لِى فِى مَوْتِهِ رِيحُ رِيبَةٍ لِمَا الْهَمَنِى مَلِكٌ صَدُوقٌ مُّتَوِّبُ اور میرے لئے تو اس کی موت میں شک کی بو تک باقی نہیں رہی اس وجہ سے کہ مجھے الہام کیا ہے کچے بادشاہ نے جو متوجہ ہونے والا ہے۔أَقُولُ وَلَا أَخْشَى فَإِنِّي مَثْلُهُ وَلَوْ عِنْدَ هَذَا الْقَوْلِ بِالسَّيْفِ أُضْرَبُ میں کہتا ہوں اور ڈرتا نہیں کہ بے شک میں اس کا مثیل ہوں خواہ یہ بات کہنے پر مجھے تلوار سے بھی مار دیا جائے۔۲۰۳