کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 279

کرامات الصادقین — Page 110

كرامات الصادقين 11۔اُردو ترجمه أتَأمُرُ بِالتَّقْوَى وَتَفْعَلُ ضِدَّهُ وَتَنْكُتْ عَهْدًا بَعْدَ عَهْدٍ وَّ تَهْرُبُ کیا تو تقویٰ کا حکم دیتا ہے اور خود تو اس کے مخالف عمل کرتا ہے اور عہد کرنے کے بعد عہد کو تو ڑ دیتا ہے اور بھاگ جاتا ہے۔وَلِيٍّ لَكَ فِي أَعْشَارِ قَلْبِي لَوْعَةٌ فَكَفِّرُ وَ كَذِبُ إِنَّنِي لَسْتُ أَغْضَبُ اور میرا حال تو یہ ہے کہ میرے دل کے گوشوں میں تیری محبت کی جلن رچی ہوئی ہے پس تو تکفیر کر اور تکذیب کرتا رہ۔یقیناً میں غضب میں نہیں آؤں گا۔أَلَا أَيُّهَا الشَّيْحُ اتَّقِ اللَّهَ الَّذِى يَهُدُّ عَمَارَاتِ الْهَوَى وَيُخَرِّبُ سن اے شیخ! اس اللہ سے ڈر جو حرص و ہوا کی عمارتوں کو ڈھا دیتا اور ویران کر دیتا ہے۔إِذَا مَا تَوَقَّدَ قَهُرُهُ يُهْلِكُ الْوَرى فَمَا حِيْصَ مِنْ ابْنِ حُسَامٍ يَعْضِبُ جب اس کا قہر بھڑکتا ہے تو مخلوق کو ہلاک کر دیتا ہے پس نہیں بچایا گیا اس سے کوئی تیز دھار تلوار کا دھنی بھی۔أَتَعُوِى كَمِثْلِ الذِنْبِ وَاللَّهِ إِنَّنِي أَرَاكَ كَأَنَّكَ أَرْنَبٌ أَوْ ثَعْلَبُ کیا تو بھیڑیے کی طرح آواز نکالتا ہے۔بخدا میں تجھ کو پاتا ہوں گویا کہ تو خرگوش ہے یا لومڑی۔وَ مَا إِنْ أَرَى فِي خَيْطِ كَبُدِكَ قُوَّةً وَيُصْلِحُ رَبِّي مَا تَهُدُّ وَتَشْغَبُ اور میں تیرے جگر کے عصبے میں کوئی قوت نہیں پاتا اور میرا رب درست کر دے گا اس عمارت کو جسے تو گرانا چاہتا ہے اور پھر اشتعال پیدا کرتا ہے۔أَلَمْ تَعْرِفَنُ رُؤْيَايَ كَيْفَ تَحَقَّقَتْ وَأَصْدَقُ رُؤْيَا مُؤْمِنٌ لَّا يُكَذَّبُ کیا تو نے نہیں جانا کہ میری خواب کیسی بچی ہوئی اور جس کی خوا ہیں کچی ہوں وہ مومن ہوتا ہے (اور ) جھٹلایا نہیں جاسکتا۔(۵۶) وَيَأْتِيكَ مِنْ آثَارِ صِدْقِيَ بِكَثْرَةٍ فَلْيَرُقَبَنُ أَوْقَاتَهَا الْمُتَرَقِّبُ اور میری سچائی کے آثار کثرت سے تیرے پاس آئیں گے پس چاہیئے کہ انتظار کرنے والا ضرور اس کے وقتوں کا انتظار کرے۔۲۰۲