کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 56
106 105 جاوے بلکہ ضروری ہوگا کہ ایسا وصیت کرنے والا جہاں تک اس کیلئے ممکن ہے پابند احکام اسلام اور تقویٰ اور طہارت کے امور میں کوشش کرنے والا ہوا اور مسلمان اور خدا کو ایک جاننے والا اور اس کے رسول پر سچا ایمان لانے والا ہو اور نیز حقوق عبا د غصب کرنے والا نہ ہو۔“ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۲۴) ان شرائط مندرجہ میں ایک شرط یہ ہے کہ وہ 1/10 سے 1/3 تک اپنی آمدنی اور جائیداد سے احمدیت کیلئے ادا کرے۔جسے چندہ وصیت کہتے ہیں اور چندہ ادا کرنے والے مرد کو موصی اور عورت کو موصیہ کہا جاتا ہے جو شخص یہ چندہ ادا کرے اس پر چندہ عام لازم نہیں۔چنده جلسه سالانه حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۱ء میں خدا تعالیٰ سے اذن پا کر جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی۔مرکزی جلسہ کے علاوہ اب یہ جلسہ سالانہ ۷ سے زائد ممالک میں ہر سال منعقد ہوتا ہے۔اس کیلئے چندہ کی اپیل خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی۔جواب تک جاری ہے۔جس کی شرح ماہانہ آمد کا دسواں حصہ سال بھر میں ادا کرنا ہے۔چنده تحریک جدید ۱۹۳۴ ء میں اس کی بنیاد سید نا حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی اس کے ذریعہ تمام دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کے نام کو بلند کرنا مقصود ہے۔آج جماعت احمد یہ اسی مبارک تحریک کے تحت ۱۶۴ ملکوں میں پھیل چکی ہے۔ہر احمدی کا اس تحریک میں چندہ ادا کرنا ضروری ہے جو کم سے کم ۲۴ روپے سالانہ ہے۔معیاری چندہ کیلئے تنخواہ کا پانچواں حصہ سال میں ادا کرنا ہوتا ہے۔چندہ دہندگان کے اعتبار سے اس تحریک کو چار دفاتر میں تقسیم کیا گیا۔دفتر چہارم کا آغاز موجودہ امام حضرت خلیفۃ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۹۸۵ء میں فرمایا اسی میں خصوصی چندہ دینے والوں کو معاونین خصوصی کہا جاتا ہے۔جو درج ذیل ہے۔معاونین خصوصی صف اوّل ۱۰۰۰ روپے۔معاونین خصوصی صف دوم ۵۰۰ روپے۔چنده وقف جدید سید نا حضرت مصلح موعود علیہ السلام نے ۱۹۵۷ء میں اندرون ملک عوام کو عیسائی یلغار سے بچانے اور دیہاتی جماعتوں کی تعلیم و تربیت کیلئے اس تحریک کا اعلان فرمایا۔۱۹۸۵ء میں حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو اس مبارک تحریک کے پہلے ممبر مقرر ہوئے تھے نے اس تحریک کو ساری دنیا کیلئے وسیع کر دیا۔اس تحریک کا ایک اہم شعبہ دفتر اطفال ہے جس میں جماعت احمدیہ کے بچے اور بچیاں چندہ ادا کرتے ہیں جو کم از کم ۱۲ روپے سالانہ ہے اور یکصد روپیہ خصوصی چندہ ادا کرنے والا بچہ نھا مجاہد کہلاتا ہے جبکہ ۱۵ سال سے بڑے افراد کم سے کم شرح ۲۴ روپے ادا کرتے ہیں اور ۱۰۰۰ روپے اور ۵۰۰ روپے ادا کرنے والے مجاہد صف اوّل اور مجاہد صف دوم کہلاتے ہیں۔زكوة زکوۃ انفاق فی سبیل اللہ کی وہ قسم ہے جو ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو زکوۃ کے نصاب کے تحت آتا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن قرار دیا ہے۔چندہ عام الگ ہے اور ز کو ۃ الگ حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔تیسری چیز چندہ ہے جو دین کے جہاد کیلئے ہوتا ہے۔یہ جہاد خواہ تلوار سے ہویا www۔alislam۔org