کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم)

by Other Authors

Page 57 of 59

کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 57

108 107 قلم اور کتب سے یہ بھی ضروری ہے۔کیونکہ زکوۃ اور صدقہ تو غرباء کو دیا جاتا ہے اس 66 سے کتابیں نہیں چھاپی جاسکتیں اور نہ مبلغوں کو دیا جاتا سکتا ہے۔“ ملائكة الله صفحه ۶۲ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۰ء) الله زکوۃ کا نصاب ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کے برا بر نقدی اور زیور ہے اور اس کا چالیسواں حصہ ادا کرنا ہوتا ہے اور ایک سال تک پڑی رقم پر ادا ئیگی فرض ہے۔اس زیور پر بھی اس کا نصاب لاگو ہوگا جو ایک سال تک پہنا نہ جائے یا تزکیہ اموال کے ڈر سے ایک دفعہ پہنے۔حضور ﷺ نے دو عورتوں کو جو آپ ﷺ کی خدمت میں کڑوں کے ساتھ حاضر ہوئیں۔وعید کرتے ہوئے فرمایا ”اگر زکوۃ ادا نہ کی تو خدا قیامت کے دن اس کے مقابل پر آگ کے کڑے پہنائے گا۔(ابوداؤد كتاب الزكواة باب الكنز ماهو وزكوة الحلى) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر ایک جو زکوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے۔“ نظمیں کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵) سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تربیتی نقطۂ نظر سے احباب و خواتین جماعت کو مختلف ذیلی تنظیموں میں تقسیم فرمایا۔ان تنظیموں کے بارہ میں یہ بات نوٹ فرمانے کے قابل ہے کہ یہ خالصہ مذہبی تنظیمیں ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں یہ تنظیمیں مختلف ادوار سے متعلقہ احباب وخواتین کی تعلیم و تربیت کی ذمہ دار ہیں اور ان کی اخلاقی، دینی روحانی، ذہنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرتی رہتی ہیں۔جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا اپنی عمر کے اعتبار سے ان تنظیموں سے منسلک رہنا ضروری ہے۔لجنہ اماء الله یہ احمد یہ مستورات کی روحانی تنظیم ہے۔اس کا قیام ۱۹۲۲ء میں عمل میں لایا گیا۔پندہ سال سے اوپر کی عمر کی ہر احمدی خاتون اس کی ممبر ہے۔آٹھ سے پندرہ سال کی احمدی لڑکیاں ناصرات الاحمدیہ کی ممبر ہوں گی جو لجنہ اماء اللہ تنظیم ہی کی ایک شاخ ہے۔جہاں تین ممبرات موجود ہیں۔وہاں یہ تنظیم قائم کی جاتی ہے۔اپنی اپنی جگہوں پر ممبرات مختلف دینی روحانی شعبوں مثلاً خدمت خلق تبلیغ تعلیم و تربیت کے تحت کام کرتی ہیں۔اس تنظیم کا اپنا چندہ ” چندہ ممبری“ کہلاتا ہے جو آمد پر ایک فیصد کے حساب سے ادا کرنا ہوتا ہے جن کی کوئی باقاعدہ آمد نہ ہو وہ اپنی توفیق کے مطابق ادا کر سکتی ہیں جبکہ ناصرات کم از کم ایک روپیہ ماہوار چندہ ادا کرتی ہیں۔مجلس انصار الله یہ احمدی بزرگوں کی تنظیم ہے۔۴۰ سال سے اوپر تمام مرد حضرات اس تنظیم کے ممبر ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی بنیا د رکھی اس تنظیم کے ممبر انصار کہلاتے ہیں۔اس تنظیم کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔۴۰ سال سے ۵۲ سال تک کے انصار صف دوم اور ۲ ۵ سال سے اوپر کے انصار اوّل میں شامل ہیں۔اس میں بھی مالی نظام جاری ہے اور ہر ناصر ہرسور و پیہ پر ایک روپیہ چندہ ادا کرتا ہے۔www۔alislam۔org