کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 16
26 26 25 بھی خدمات کی توفیق ملی صحیح بخاری کی شرح لکھنے کے علاوہ آپ نے سلسلہ احمدیہ کی کئی کتب کا عربی میں ترجمہ بھی کیا۔آپ 15 اور 16 مئی 1967ء کی درمیانی شب کو 78 سال کی عمر میں وفات پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ میں دفن ہوئے۔حضرت مولوی محمد حسین صاحب سبز پگڑی والے آپ یکم جنوری 1893 ء کو پیدا ہوئے۔1902 ء میں بیعت کی۔ابتدائی تعلیم تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان اور مدرسہ احمدیہ قادیان سے حاصل کی۔1923 & میں شدھی تحریک میں حصہ لیا۔اس تحریک میں مسلمانوں کو ہندو بنایا جارہا تھا۔آپ نے 1923ء میں ہی اپنی زندگی خدا کی راہ میں وقف کر دی۔آپ حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی ہدایت پر 1983 ء میں بیت الہدی آسٹریلیا کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شریک ہوئے۔1989 ء کے تاریخی صد سالہ جشنِ تشکر کے موقعہ پر جلسہ سالانہ برطانیہ میں شرکت کرنے کی سعادت ملی۔اسی طرح 1991ء کے جلسہ سالانہ قادیان میں جو کہ صد سالہ جلسہ سالانہ تھا میں بھی شامل ہوئے۔آپ نے حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا جنازہ بھی پڑھایا۔آپ 19 جون 1994ء کو فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔آپ نے 102 سال عمر پائی۔تاریخ احمدیت دور خلافت ۱۹۶۵ء ۱۲ نومبر : حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے دور خلافت کا پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔۱۷۔دسمبر : حضور نے تحریک فرمائی کہ کوئی احمدی رات کو بھوکا نہ سوئے اور امراء جماعت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔۱۹ ۲۰ ۲۱ دسمبر : حضور کے عہد کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔۸۰ ہزار افراد کی شرکت یہ جماعت کا ۷۴ واں جلسہ سالانہ تھا۔۲۰ دسمبر : حضور نے خدام کو ماٹو دیا ” تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں۔“ ۲۱ دسمبر : فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک کا اعلان۔جماعت سے ۲۵ لاکھ روپے کا مطالبہ۔اسی جلسہ پر حضور نے وقف بعد ریٹائر منٹ کی تحریک بھی فرمائی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی پیشگوئی کے مطابق گیمبیا کے سرایف ایم سنگھاٹے نے اسی سال حضور سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا کپڑا طلب کیا جو انہیں بھجوا دیا گیا۔۱۹۶۵ء میں ہی لندن سے دی مسلم ہیرالڈ“ کا اجراء کیا۔١٩٦٦ء ۴ فروری: حضور نے تحریک تعلیم القرآن کا اعلان فرمایا۔۲۳ فروری: حضور نے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے مابین مضبوط راوبط کی تحریک فرمائی۔www۔alislam۔org