کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 15
24 4 23 قادیان میں استادر ہے۔جامعہ احمدیہ قادیان میں بطور پرنسپل رہے۔آپ نے 3 جون 1947ء کو قادیان میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔جب دار الافتاء کا قیام ہوا تو سب سے پہلے مفتی سلسلہ کا تقرر آپ کا ہوا۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر آپ نے 1901 ء میں بیعت کی۔قادیان آمد سے قبل کپورتھلہ میں سکول ماسٹر تھے۔آپ 1906 ء میں مستقل طور پر قادیان آ گئے۔آپ مغربی افریقہ میں جماعت احمدیہ کے پہلے مبلغ تھے۔21 فروری 1921 ء کو فریقہ تشریف لے گئے۔افریقہ سے واپس آنے کے بعد پانچ سال تک بھو پال اور حیدرآباد کے علاقہ میں مبلغ رہے۔آپ نے ستمبر 1947 ء میں وفات پائی۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کابل آپ نے 1902 ء میں بیعت کی۔آپ کی شہادت کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب تذکرۃ الشہادتین میں فرمایا۔آپ کو 14 جولائی 1903ء کو کابل میں شہید کیا گیا۔قادیان سے کابل واپسی پر آپ کو الہام ہوا۔اِذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ شہادت سے قبل آپ کو قید کر لیا گیا اور ہتھکڑی اور وزنی بیڑیاں لگائی گئیں جن کا وزن ایک من 24 سیر تھا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔آپ 1875 ء میں ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔1889 ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔1897ء میں جماعت کی ضروریات کے پیش نظر اخبار الحکم کا اجراء کیا جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ایک باز و قرار دیا۔نیز حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے فرمایا ” الحکم اپنی ظاہری صورت میں زندہ رہے یا نہ رہے لیکن اس کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ ہے سلسلہ کا کوئی مہتم بالشان کام اس کا ذکر کیے بغیر نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تاریخ سلسلہ کا حامل ہے“۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے ساتھ کئی سفروں میں ساتھ جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔1927 ء میں آپ کو حج کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ کئی کتابوں کے مصنف تھے مثلاً " رحمت للعالمين في كتاب مبين "سيرة حضرت مسیح موعود علیہ السلام حیات احمد سیرۃ حضرت اماں جان “۔آپ حیدر آباد دکن میں وفات پا کر 5 دسمبر 1957 ء کو بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔" حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب آپ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ماموں تھے۔آپ 13 مارچ 1889 ء کو ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔اور 1903 ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل اور حضرت حافظ روشن علی صاحب آپ کے اساتذہ تھے۔حضرت شاہ صاحب کو ایڈیشنل ناظر اعلی ناظر امور عامه ناظر امور خارجہ ناظر تعلیم، ناظر دعوت و تبلیغ ، ناظر تجارت اور اس کے علاوہ شام، عراق میں بطور مربی سلسلہ۔www۔alislam۔org