کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم)

by Other Authors

Page 14 of 59

کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 14

22 22 21 صحابه حضرت مسیح موعود عليه السلام حضرت مرزا شریف احمد صاحب آپ 1895 ء میں پیدا ہوئے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت مصلح موعودؓ کے چھوٹے بھائی تھے۔آپ نے بطور ناظر صدرانجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں میں کام کیا۔آپ کے صاحبزادے محترم مرزا منصور احمد صاحب ایک لمبا عرصه صدرانجمن احمدیہ کے ناظر اعلیٰ رہے۔موجودہ ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ محترم مرز امسر و ر احمد صاحب آپ کے پوتے ہیں۔آپ نے 26 دسمبر 1961ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے پیدائش 3 اکتوبر 1890ء بیعت 1906ء۔آپ حضرت مسیح موعود کے سب سے بڑے پوتے اور حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے فرزند اکبر تھے۔آپ نے 1945 ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اعلی سرکاری عہدہ سے ریٹائرڈ ہو کر اپنی زندگی سلسلہ کی خدمات کے لئے وقف کر دی۔آپ 1949 ء تا 1971 ء ناظر اعلیٰ صدرانجمن احمد یہ رہے اس سے قبل ناظر امور عامہ بھی رہے۔1950ء تا 1954 ء صدر مجلس انصار اللہ مرکز یہ رہے۔خلافت ثالثہ کے انتخاب کے موقعہ پر آپ نے مجلس انتخاب کی صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔آپ کی وفات 1973 ء میں ہوئی۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب آپ 1893ء میں پیدا ہوئے۔1907ء میں بیعت کی۔عالمی عدالت انصاف کے پہلے حج پھر نائب صدر اور پھر صدر کے اہم منصب پر فائز ہوئے۔اقوام متحدہ کے صدر اور پاکستان کے سب سے پہلے وزیر خارجہ رہے۔آپ امیر جماعت احمد یہ لا ہور بھی رہے۔آپ کی وفات 1985 ء میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے آپ کو کلمۃ اللہ فرمایا۔حضرت مولوی رحمت علی صاحب آپ 1893 ء میں پیدا ہوئے۔پیدائشی احمدی تھے۔آپ کے والد حضرت بابا حسن محمد صاحب کو جماعت میں ایک خاص فخر حاصل ہے اور وہ یہ کہ وہ نظام بہشتی مقبرہ کے پہلے موصی ہیں۔آپ 1925ء میں تبلیغ کے لئے انڈونیشیا تشریف لے گئے۔آپ نے 13/اگست 1959ء کو وفات پائی۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔حضرت مولوی عبد الرحیم در و صاحب آپ 1892 ء میں پیدا ہوئے۔آپ پیدائشی احمدی تھے۔آپ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے پرائیوٹ سیکرٹری رہے۔بطور امام مسجد فضل لندن بھی رہے۔قائد اعظم محمد علی جناح جب کانگریس کے رویے اور مسلمان علماء کی طرف سے مایوس ہو کر برطانیہ چلے گئے تو آپ نے انہیں مسلمانوں کی قیادت کرنے کے لئے ہند وستان واپس جانے کے لئے آمادہ کیا۔کشمیر کے مسلمانوں کی بھلائی کیلئے بھی کوشش کی۔آپ 7 دسمبر 1955ء کو فوت ہوئے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب آپ 1885 ء میں پیدا ہوئے اور 1897 ء میں بیعت کی۔1901 ء میں مستقل طور پر قادیان آگئے۔آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان اور مدرسہ احمدیہ www۔alislam۔org