کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 13
20 20 19 حضرت انس بن مالک نام انس کنیت: ابوحمزہ کا لقب : خادم رسول اللہ قبیلہ نجار سے ہیں جو انصار مدینہ کا معزز ترین خاندان تھا۔آپ کی والدہ کا نام اُم سلیمہ ہے۔ہجرت نبوی سے دس سال قبل میثرب میں پیدا ہوئے۔آپ کا نام اپنے چا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا۔آپ کی کنیت آنحضور ﷺ نے رکھی تھی۔آپ کی والدہ ام سلیمہ نے بیعت عقبہ ثانیہ سے پیشتر اسلام قبول کر لیا تھا۔والد مشرک تھا۔اُم سلیمہ کو چھوڑ کر شام چلا گیا۔أم سلیمہ نے دوسرا نکاح حضرت ابوطلحہ سے کر لیا۔آپ ﷺ کی مدینہ آمد کے بعد حضرت ابوطلحہ نے حضرت انس کو حضور ﷺ سے اپنی غلامی میں لینے کی درخواست کی۔آپ ﷺ نے منظور فرمایا اور حضرت انس خادمان خاص میں داخل ہو گئے۔آپ نے آنحضرت ﷺ کی وفات تک اپنے فرض کو نہایت خوبی سے انجام دیا اور کم وبیش دس برس تک آپ ﷺ کی خدمت کرتے رہے۔103 سال کی عمر میں وفات پائی۔حضرت عبد اللہ بن عباس ا نام عبداللہ حملہ والد کا نام : عباس حملہ والدہ کا نام : لبابہ الکبری ابن عباس کے نام سے علم حدیث میں مشہور ہیں۔قریش سے آپ کا تعلق ہے۔آپ کی پیدائش اس گھائی میں ہوئی جہاں مشرکین مکہ نے تمام خاندان ہاشم کو محصور کر دیا تھا۔پیدائش کے بعد آپ کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ ﷺ نے لعاب دہن سے گھٹی دی اور دعا کی۔ย حضور ﷺ نے آپ کے لئے دعا کی اللَّهُمَّ عَلِمُهُ الْقُرْآنَ اے اللہ اسے قرآن کا علم عطا فرما۔حضور ﷺ کی میت کو غسل دینے کے وقت آپ بھی موجود تھے۔حضرت عثمان کے دور میں 35 ھ میں آپ کو امارت حج کی ذمہ داری سونپی گئی جسے آپ نے بڑی عمدگی سے ادا کیا۔اپنی زندگی کے آخری ایام طائف میں گزارے۔48 ھ میں شدید علیل ہوئے اور اسی بیماری میں وفات پائی۔آپ کی نماز جنازہ حضرت محمد بن حنفیہ نے پڑھائی۔آپ نہایت اعلیٰ علم کے مالک تھے۔آپ وفات مسیح کے قائل تھے۔لفظ مُتَوَفِّیگ کی تفسیر میں آپ نے فرمایا کہ مُتَوَفِّيكَ أَيْ مُمِيتُكَ حضرت ابوایوب انصاری نام: خالد کنیت: ابوایوب والد کا نام : زید کی والدہ کا نام : زہرہ ا مدینہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تعلق تھا۔ہجرت سے تقریباً 30 برس قبل مدینہ میں پیدا ہوئے۔آپ نے دوشادیاں کیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے قبل ہی اسلام قبول کر چکے تھے۔پیشہ زراعت تھا۔ہجرت کے بعد حضور اکرم ﷺ نے آپ ہی کے گھر میں قیام فرمایا۔تمام غزوات میں شریک ہوئے۔80 سال کی عمر میں جہادروم قسطنطنیہ میں شریک تھے۔اخلاق حسنہ کا پیکر جمیل تھے۔حق گوئی میں بے باک اور نڈر تھے۔بے حد نرم دل تھے شرم و حیاء کی یہ کیفیت تھی کہ کنویں پر نہاتے تو چاروں طرف کپڑے کی اوٹ بنا دیتے۔جنگ روم قسطنطنیہ کے موقعہ پر قسطنطنیہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔جس کی وجہ سے آپ بیمار ہو گئے۔اسی بیماری کی حالت میں آپ نے وفات پائی۔آپ کا مزار قسطنطنیہ میں ہے۔آپ کا انتقال 53ھ میں 80 سال کی عمر میں ہوا۔www۔alislam۔org