کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 8
10 10 9 ے۔اکتوبر : حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے دور خلافت میں مرکز سے پہلا اخبار ” فاروق حضرت میر قاسم علی صاحب کی ادارت میں جاری ہوا۔دسمبر : حضور کی بیان فرمودہ قرآن کریم کے پہلے پارہ کی تفسیر اردو اور انگریزی میں شائع ہوئی۔١٩١٦ء اگست : حضرت خلیفة المسح الثانی رضی اللہ عنہ نے صحیح مسلم کا درس عام جاری فرمایا۔نومبر : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ کی کتاب شائع ہوئی۔دسمبر : قادیان میں منارہ مسیح کی تکمیل ہوئی۔قادیان میں مستقل مرکزی ”صادق لائبریری قائم ہوئی اسی سال حضور نے خواتین کے لئے تبلیغی فنڈ کی پہلی تحریک فرمائی۔١٩١٧ء ۱۲۔مارچ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی با حال زار روس میں زار روس کے متعلق پوری ہوئی۔۲۱ جون: قادیان میں نو رہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا گیا تحمیل تمبر میں ہوئی۔ے دسمبر : حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے زندگی وقف کرنے کی پہلی تحریک فرمائی۔سیلون احمد یہ مشن سے ہفتہ وار The Message جاری ہوا۔۱۹۱۸ء یکم مارچ: حضور کے دفتر میں ڈاک کا مستقل صیغہ پہلی بار قائم کیا گیا۔پہلے افسر ڈاک حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر مقرر ہوئے۔www۔alislam۔org دسمبر : حضور نے جنگ عظیم میں کام آنے والے مسلمانوں کے بچوں کی تعلیم کے فنڈ میں ۵ ہزار روپیہ دیا۔اسی سال انفلوئنزا کی وبا پھیل جانے پر حضور کے ارشاد کے ماتحت جماعت احمدیہ نے حیرت انگیز طبی خدمات سرانجام دیں۔١٩١٩ء یکم جنوری: حضور نے صدر انجمن احمد یہ میں نظارتوں کا نظام قائم فرمایا۔۲۶۔فروری: حضور نے حبیبیہ ہال لاہور میں اسلام میں اختلافات کا آغاز“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔مئی: حضور نے ہندوستان میں سول نافرمانی کی تحریک اور اس کے نتائج سے متعلق مسلمانانِ ہند کی راہنمائی فرمائی۔جون : قادیان میں یتیم خانہ قائم کیا گیا۔۳۰ ستمبر : حضور نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کیلئے ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض‘‘ کے موضوع پر کتا بچہ تصنیف فرمایا۔۱۹۲۰ء ۱۵۔فروری: حضور نے بریڈ لا ہال میں دو مستقبل میں امن کا قیام اسلام سے وابستہ ہے“ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔۱۵۔فروری: حضرت مفتی محمد صادق صاحب امریکہ میں مشن قائم کرنے کیلئے فلاڈلفیا کی بندرگاہ پر اترے مگر شہر میں آپ کو جانے سے روک دیا گیا تا ہم مئی میں دعوت الی اللہ کے لئے شہر داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔۱۰۔اپریل: حضور نے سیالکوٹ میں’احمد یہ بال کی بنیا درکھی۔