کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 55 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 55

103 102 سکول اور پڑھائی کے آداب سکول وقت پر پہنچیں۔گھر سے روانہ ہوتے ہوئے یہ اندازہ کر لیں کہ راستہ میں جو وقت صرف ہو گا اس سے آپ لیٹ نہیں ہوں گے۔پڑھتے وقت اپنی کتاب کو ایک فٹ سے زیادہ آنکھوں کے قریب نہ لا ئیں۔لیٹے ہوئے اور زیادہ جھک کر لکھنے اور پڑھنے سے گریز کریں۔اسی طرح ہل ہل کر مت پڑھیں۔پین، پنسل یا پیسے وغیرہ منہ میں ڈالنے کی عادت نہیں ہونی چاہیئے۔اگر مطالعہ کے بعد اکثر سردرد ہو جاتا ہو یا بلیک بورڈ پر لکھا ہوا نظر نہ آتا ہو تو آنکھوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔عل راہ چلتے اخبار یا کتاب نہ پڑھیں۔سلیٹ پر لکھے ہوئے کو تھوک سے مٹانے کی بجائے گیلے کپڑے یا پانی کے ذریعہ مٹائیں۔لکھتے ہوئے قلم جھٹک کر اردگرد کی چیزوں پر دھبے نہ ڈالیں۔سکول میں اپنے ساتھیوں سے بلا وجہ بحث کرنے اور گالی گلوچ سے پر ہیز کریں۔پڑھائی میں محنت ضرور کریں مگر محض کتابوں کا کیڑا بن کر نہ رہ جائیں غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں۔حمد استاد کا پوری طرح ادب و احترام کریں۔حملہ مطالعہ کے وقت عمو ما بات چیت سے پر ہیز کریں۔یہ یاد رکھیں کہ اخبارات و علمی رسائل آپ کے علم میں وسعت کا باعث بنتے ہیں انہیں ضرور زیر مطالعہ رکھیں۔جید کسی کی کتابیں، خطوط اور کاغذات اس کی اجازت کے بغیر مت پڑھیں۔www۔alislam۔org ایک نوٹ بک اپنے پاس رکھیں جس میں کارآمد اور مفید باتیں لکھ لیا کر یں۔اپنی کلاس میں یا کسی بھی جگہ لیکچر اور خطاب خاموشی اور توجہ سے سنیں۔تحریر صاف اور خوش خط لکھنے کی کوشش کریں تا کہ صاف پڑھی جا سکے اور سیدھی سطریں لکھیں۔کتابوں اور کاپیوں کو بے جالیکروں اور دھبوں سے خراب مت کریں۔حمد والدین کو چاہیے کہ اگر ہو سکے تو اپنے ہر ایک بچے کو کتا ہیں اور کھلونے وغیرہ رکھنے کے لئے ایک الماری یا بکس وغیرہ دیں۔اور کبھی کبھی جائزہ لیتے رہیں کہ اس میں کوئی نا مناسب یا چوری کی چیز تو نہیں۔امتحان میں نقل کبھی نہ کریں۔یہ چوری اور دھوکہ ہے۔جس بات کا علم نہ ہوا سے استاد سے یا کسی سے پوچھنے میں مت جھجکیں۔اپنے سکول سے بلا اشد مجبوری کے غیر حاضر نہ رہیں۔اور غیر حاضر ہونے کی صورت میں رخصت لیں۔اگر آپ کے شہر میں لائبریری ہے تو آپ کو اس کا ممبر بننا چاہیے۔اگر کوئی سکول کا کام گھر آکر نہ کرے تو وہ کم درجے کا طالبعلم ہے۔اگر کوئی صرف سکول کا کام گھر پر آ کر نہ کرے تو وہ متوسط درجے کا طالبعلم ہے۔ا اگر کوئی سکول کا کام گھر پر کرنے کے علاوہ زائد مطالعہ بھی کرتا ہے تو وہ لائق طالبعلم ہے۔اپنی کتابیں چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں نہ دیں اور اگر وہ ضد کریں تو ان کے لئے ان کی ضروریات کے مطابق تصویری کتب وغیرہ ان کو تھما دیا کریں۔اپنی دوستی لائق اور اخلاق والے بچوں سے رکھیں۔پڑھتے اور لکھتے وقت روشنی آپ کے بائیں طرف ہوا اور آپ کی آنکھوں کی بجائے کتاب پر پڑے تو مفید ہے۔