کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 22 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 22

38 37 ہوں۔بالاخر آپ کو پتھر مار مار کر شہید کر دیا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام پورا ہوا کہ شاتانِ تُذْبَحَانِ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ یعنی تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر فنا ہو گا۔آپ کی وفات کے دوسرے دن ہی کابل میں ایسا زبردست ہیضہ پھیلا کہ گھروں کے گھر تباہ ہو گئے۔یہاں تک کہ لاشوں کے دفنانے کے لئے آدمی نہ ملتے تھے گو یا مجرموں نے اپنے کئے کی سزا پائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی شہادت پر فرمایا:۔”اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کریں گے“۔(تَذْكِرَةُ الشَّهَادَتَيْن)۔حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب ہے آپ چودہ سال کی عمر میں سکھوں میں سے مسلمان ہوئے آپ کا سابقہ نام مہر سنگھ تھا۔اسلام قبول کرنے کی وجہ سے آپ کو بے شمار تکالیف اٹھانی پڑیں۔مگر ثابت قدم رہے۔آپ کی طرح کئی اور بزرگ صحابہ بھی سکھوں اور ہندوؤں میں سے مسلمان ہوئے اور حضرت مسیح موعود کی صحبت سے صاحب کشوف ورڈ یا بن گئے تھے۔آپ کی زندگی کے دو واقعات درج ذیل ہیں۔تبلیغ کا جنون تبلیغ کا جوش آپ کے دل میں جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔احباب اور طالب علموں کو مختلف طریقوں سے تبلیغ پر آمادہ رکھتے تھے۔مثلاً ماسٹر ماموں خاں صاحب سابق ڈرل ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی شادی میں بعض روکیں تھیں۔حضرت ماسٹر صاحب کو انہوں نے دعا کیلئے کہا۔آپ نے فرمایا۔آپ چالیس اور گاؤں میں جا کر تبلیغ کریں میں بھی دعا کروں گا۔چنانچہ www۔alislam۔org اس طرح ابھی چند روز ہی گذرے تھے کہ ماسٹر ماموں خاں صاحب کی شادی ہوگئی۔دعاؤں میں انہماک آپ خود لکھتے ہیں کہ ۱۹۰۸ء میں جب میں سنٹرل ٹرینگ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا تو میرے ساتھی عیسائیوں نے مجھے عصرانہ پر مدعو کیا اور کہا کہ آپ نے اچھا کیا کہ سکھوں کا مذہب ترک کر کے اسلام اختیار کیا۔اب ایک قدم اور بڑھاؤ اور عیسائی بن جاؤ۔ٹرینڈ ہو کر آپ کو مسلمانوں سے کیا تنخواہ ملے گی۔ہم تو جاتے ہی تین تین صد روپے پر متعین ہو جائیں گے۔میں نے کہا میں زندہ خدا کا طالب ہوں۔اگر تم زندہ خدا سے میراتعلق پیدا کرا دو تو میں عیسائی ہو جاؤں گا۔ان میں سے ایک عیسائی نے پوچھا کہ زندہ خدا سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو کھولا جائے گا۔ڈھونڈ وتو خدا تعالیٰ کو پالو گے۔اور قرآن مجید میں بھی لکھا ہے کہ اضطرار سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے۔اگر یہ نعمت عیسائیت میں دکھاؤ تو ابھی عیسائی ہو جاؤں گا۔طلباء نے کہا کہ ویڈ انجیل اور قرآن شریف کے بعد الہام و وحی کا دروازہ بند ہے اب الہام نہیں ہو سکتا۔میں نے کہا کہ ابھی اسی مجلس میں مجھے الہام ہوا ہے کہ ”پہلا سوال بتا دیا جائے گا‘ طلباء نے کہا ہم نے تو الہام نہیں سنا۔میں نے کہا۔تمہارا خون خراب ہو گیا ہے اسے قادیان میں درست کر لو تو تم کو بھی الہام کی آواز سنائی دے گی۔پھر فرمایا کہ: دوسرے تیسرے روز رات کو سونے کے لئے سرہانے پر سر رکھنے لگا تھا کہ کشفی حالت میں مجھے ریاضی کا پرچہ دکھایا گیا جسے میں نے پڑھ لیا مگر مجھے صرف پہلا سوال ہی یا د رہا۔جسے میں نے نوٹ کر لیا۔تین مہینے کے بعد ہمارا سہ ماہی امتحان ہوا اور اس میں ریاضی کا پہلا سوال وہی تھا جو میں نے بتایا تھا۔یہ دیکھ کر امرتسر کا ایک دہر شخص عبد الحمید ایم۔اے خدا تعالیٰ کا قائل ہو گیا۔