کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 16 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 16

25 25 اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہوئے تھے اگلے سال جب مکہ آئے تو اپنے قبیلہ کے نقیب ( نگران ) بنا دیے گئے اور اسلام کی راہ میں اپنی جان تک لڑا دی۔آپ جنگ احد میں نیزہ سے بارہ زخم کھا کر میدان میں لاشوں کے ڈھیر میں دبے پڑے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق حضرت ابی بن کعب آپ کی تلاش کرتے ہوئے آپ کے پاس پہنچے تو انہیں کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے میرا سلام کہنا اور انصار سے کہنا کہ اگر خدانخواستہ رسول اللہ تو قتل ہو گئے اور تم میں سے ایک بھی زندہ بچ گیا تو خدا کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گے۔کیونکہ تم نے عقبہ میں رسول اللہ ﷺ پر فدا ہونے کی بیعت کی تھی۔آپ نے اتنا کہا اور آپ کی روح جسد عصری سے پرواز کر گئی۔اللہ! اللہ ! ان لوگوں کو اللہ کے رسول ﷺ سے کتنی محبت تھی۔صلى الله رض اسی طرح اخوت اور ایثار کی جو شاندار مثال آپ نے قائم کر دکھائی اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔واقعہ یوں ہوا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مکہ سے مدینہ ہجرت کر آئے تو مدینہ کے انصار نے خوشی خوشی سب کا استقبال کیا۔اور ایک ایک انصاری کے ساتھ ایک ایک مہاجر کو بھائی بنا دیا گیا اس طرح انصار نے اپنے مال و دولت بھی مہاجرین کے ساتھ بانٹ لئے۔حضرت سعد کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن عوف بنے تو حضرت سعد نے انہیں مال و متاع کے ساتھ یہ پیشکش بھی کی کہ میں اپنی بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں تا آپ اس سے شادی کر لیں۔حضرت عبد الرحمن اگر چہ اس وقت مفلوک الحال تھے تاہم دل غنی تھا۔بولے خدا تمہارے بال بچوں اور مال و دولت میں برکت دے۔مجھے اس کی ضرورت نہیں تم مجھے بازار دکھلا دو۔www۔alislam۔org ایک دفعہ آپ کی صاحبزادی حضرت ابو بکر کے پاس آئیں تو انہوں نے کپڑا بچھا دیا۔حضرت عمرؓ نے پوچھا۔یہ کون ہیں؟ فرمایا سعد بن ربیع کی بیٹی ہے جو مجھ سے اور تم سے بہتر تھے۔پوچھا یا امیرالمومنین ! وہ کیوں؟ ارشاد ہوا کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنت کا راستہ لیا اور ہم تم یہیں باقی رہ گئے۔✰✰✰ 26 26