کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 15 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 15

23 23 حضرت اسامہ بن زید نه حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بڑی محبت تھی۔آپ ﷺ اپنے ایک زانو پر اپنے نواسے حضرت حسنؓ اور دوسرے پر حضرت اسامہ کو بٹھا لیتے اور فرماتے۔اے خدا میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔ایک دفعہ جب حضرت اسامہ کی عمر ۱۴۔۱۵ برس کی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک چھوٹے سے لشکر کا سردار مقرر فرمایا جب اس لشکر کا دشمن سے مقابلہ ہوا تو دشمن شکست کھا کر بھاگ گیا۔آپ نے ایک اور صحابی کے ساتھ دشمن کی فوج کے ایک سپاہی کا تعاقب کیا۔جب وہ پکڑا گیا تو اس نے فوراً لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کہہ دیا۔مگر حضرت اسامہ نے اسے اس خیال سے قتل کر دیا کہ اس کا یہ کلمہ پڑھنا صرف موت سے بچنے کیلئے بہانہ ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ ے بہت ناراض ہوئے اور فرمایا۔اسامہ ! تم نے وہ شخص قتل کیا جو کلمہ طیبہ پڑھتا تھا۔حضرت اسامہ نے کہا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ دل سے نہیں پڑھتا تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا۔کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا؟ حضرت اسامہ فرماتے ہیں۔مجھے اس قدر افسوس ہوا کہ میں نے دل میں کہا۔کاش ! میں آج اسلام لانے والا ہوتا تا کہ یہ واقعہ میری زندگی میں ہی نہ ہوتا۔حضرت سلمان فارسی دانه حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ملک ایران کے رہنے والے تھے جو فارس کہلاتا تھا۔پہلے آپ عیسائی تھے اور بڑے بڑے پادریوں کے پاس رہ چکے تھے۔ان میں سے ایک نیک www۔alislam۔org پادری نے انہیں بتایا تھا کہ عرب میں ایک نبی پیدا ہونے والا ہے۔چنانچہ حضرت سلمان حق کی تلاش میں ایک قافلہ کے ساتھ چل دیئے مگر قافلہ والوں نے آپ سے دھوکا کر کے آپ کو ایک یہودی کے ہاتھ غلام بنا کر بیچ دیا۔جو انہیں مدینہ لے آیا جہاں آپ کو اسلام کی نعمت نصیب ہوئی۔حضرت سلمان دن رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے لگے۔جب کفار مکہ کے اُکسانے پر عرب کے بہت سے قبائل مل کر مدینہ پر چڑھ آئے تو حضرت سلمان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشورہ دیا کہ مدینہ کے اردگرد ایک خندق کھودی جائے تا دشمن آسانی سے مدینہ میں داخل نہ ہو سکے۔ان کے مشورہ سے ایک خندق کھودی گئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی بخشی۔اسی لئے یہ جنگ جنگ خندق کے نام سے مشہور ہے۔چونکہ دشمن کے بہت سے قبیلوں نے متحد ہو کر اس میں حصہ لیا تھا اس لئے اسے غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں۔صلى الله۔حضرت سلمان فارسی ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ سورہ جمعہ کی پہلی آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بطور وحی نازل ہوئیں جس میں اخرین سے متعلق ذکر آتا ہے۔صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! یہ اخرین کون ہیں؟ تو آنحضرت ﷺ خاموش رہے۔انہوں نے دوبارہ عرض کیا تو پھر بھی آپ یہ خاموش رہے۔تیسری بار عرض کرنے پر آپ ﷺ نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فر مایا کہ جب ایمان ثریاستارے پر چلا جائے گا تو ان لوگوں ( یعنی فارس والوں ) میں سے ایک شخص اسے دوبارہ واپس لائے گا۔گویا اس شخص کو مانے والے ہی اخسرین ہوں گے۔اس آیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی طرف اشارہ ہے جو فارسی النسل ہیں اور آپ کے ذریعہ سے ہی اس آخری زمانہ میں قرآن مجید کی اشاعت اور اسلام کا غلبہ مقدر ہے۔حضرت سعد بن ربیع انصاری راه آپ مدینہ کے ایک رئیس کے بیٹے تھے۔آپ کی تعلیم کا خاص اہتمام ہوا تھا۔پڑھنے کے علاوہ لکھنا بھی جانتے تھے۔ہجرت سے قبل عقبہ اولیٰ کے موقعہ پر آنحضرت صلی 24 24