کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 14
22 22 21 کا ایک ہاتھ ہمیشہ کیلئے بیکار ہو گیا۔چنانچہ جب بعد میں صحابہ آپ سے پوچھا کرتے تھے کہ اے طلحہ ! جب تم دشمن کے تیر اپنے ہاتھوں سے روکتے تھے تو درد نہیں ہوتا تھا ؟ حضرت طلحہ جواب دیتے میرے دوستو! تکلیف کیوں نہیں ہوتی تھی۔درد ہوتا تھا اور شدید ہوتا تھا۔مگر میں ایک لمحہ کے لئے بھی اپنا ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ مبارک کے سامنے سے ہٹانا برداشت نہیں کرتا تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے ہاتھ ذرا بھی ہٹایا تو تیر سیدھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جا لگے گا اور میں یہ بات کیونکر گوارا کر سکتا تھا۔اللہ ! اللہ ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فدائیت میں بہادری اور جرات کا کیسا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ تیروں سے اپنا ہاتھ چھلنی کرالیا، مگر اُف تک نہ کی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی آپ نے بہت سے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔حضرت ابو ہریرہ ن آپ کا اصل نام عمیر تھا۔یمن کے رہنے والے تھے۔آپ کو ابو ہریرہ اس لئے کہتے ہیں کہ آپ نے ایک بلی پال رکھی تھی جب بکریاں چرانے جاتے تو اسے ساتھ لے جاتے اور اس سے کھیلتے رہتے۔چھوٹی بلی کو عربی زبان میں ھریرہ کہتے ہیں۔اس لئے لوگوں نے انہیں ابوھریرہ کہنا شروع کر دیا ( یعنی بلی کا باپ ) اسلام لانے کے بعد ہر وقت مسجد نبوی میں بیٹھے رہتے آپ کو ہر دم یہی خیال رہتا تھا کہ ایسا نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں اور میں آپ کی باتیں سننے سے محروم رہ جاؤں۔چنانچہ جب بھی آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات سنتے تو اسے اچھی طرح یا در رکھتے۔ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے بعض باتیں بھول جاتی ہیں۔آپ نے فرمایا۔ابو ہریرہ ! اپنی چادر پھیلاؤ۔انہوں نے چادر www۔alislam۔org پھیلا دی۔اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں دستِ مبارک ڈالے۔پھر فرمایا یہ چادر اٹھا کر سینے سے لگا لو اس واقعہ کے بعد آپ کو کوئی حدیث نہیں بھولی اور حدیث کی کتابوں میں ہزار ہا حدیثیں آپ سے روایت کی گئی ہیں۔چونکہ ابو ہریرہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باتیں سننے کے لئے مسجد نبوی میں ہی مقیم رہتے اور کوئی کاروبار وغیرہ نہ کرتے اس لئے کئی کئی دن بھو کے رہتے۔اگر کوئی کھانے کے لئے کچھ دے جاتا تو کھا لیتے خود کسی سے نہ مانگتے۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کو بھوک لگی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو گیا۔اسی وقت کسی نے آپ ﷺ کو ایک پیالہ دودھ تحفہ بھجوایا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے سب کو بلا یا۔جب وہ آ گئے تو حضرت ابو ہریرۃ نے خیال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلے مجھے ہی دیں گے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ دائیں جانب والے پہلے صحابی کو دے دیا۔پہلے صحابی نے کچھ پی کر پیالہ واپس کر دیا۔آپ ﷺ نے اس صحابی سے پیالہ لے کر دائیں طرف کے اگلے آدمی کو دے دیا۔سب حاضر صحابہ کے بعد جب ابو ہریرہ کی باری آئی تو انہوں نے دیکھا کہ پیالہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اسی طرح بھرا ہوا ہے انہوں نے بھی سیر ہو کر پی لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو ہریرہ اور پیو۔انہوں نے اور پینا شروع کر دیا۔جب پیالہ واپس کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا ابو ہریرہ اور پیو۔یہاں تک کہ وہ اتنا سیر ہو گئے کہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب تو دودھ میرے ناخنوں سے بھی بہہ نکلنے لگا ہے۔تب پیالہ آپ نے واپس لے لیا اور بقیہ دودھ خود پیا۔صلى الله