کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 43 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 43

80 00 79 بلند ہمتی میں اپنے پیاروں کی نسبت ہر گز نہ کروں گا پسند کبھی وہ وہ ہ چھوٹے درجہ پہ راضی ہوں اور ان کی نگاہ رہے نیچی شیروں کی طرح غراتے ہوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ادنی سا قصور اگر دیکھیں تو منہ میں گفٹ بھر لاتے ہوں امید لگائے بیٹھے ہوں وہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ادنی ادنی خواہش کو مقصود بنائے بیٹھے ہوں شمشیر زباں سے گھر بیٹھے دشمن کو مارے جاتے ہوں میدانِ عمل کا نام بھی لو تو جھینپتے ہوں بھبراتے ہوں گیدڑ کی طرح وہ تاک میں ہوں شیروں کے شکار پہ جانے کی اور بیٹھے خوابیں دیکھتے ہوں وہ ان کا جوٹھا کھانے کی اے میری الفت کے طالب! یہ میرے دل کا نقشہ ہے اپنے نفس کو دیکھ لے تو وہ ان باتوں میں کیسا ہے گر تیری ہمت چھوٹی گر تیرے ارادے مردہ ہیں گر تیری امنگیں کو تہ ہیں گر تیرے خیال افسردہ ہیں کیا تیرے ساتھ لگا کر دل میں خود بھی کمینہ بن جاؤں ہوں جنت کا مینار مگر دوزخ کا زینہ بن جاؤں ہے خواہش میری الفت کی تو اپنی نگاہیں اونچی کر تدبیر کے جالوں میں مت پھنس کر قبضہ جا کے مقدر پر میں واحد کا ہوں دل دادہ ہے اور واحد میرا پیارا ہے گر تو بھی واحد بن جائے تو میری آنکھ کا تارا ہے تو ایک ہو ساری دنیا میں کوئی ساجھی اور شریک نہ ہو کو دے لیکن خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو تو دنیا www۔alislam۔org ہم احمدی بچے ہیں ہم احمدی بچے ہیں کچھ کر کے دکھا دیں گے شیطاں کی حکومت کو دنیا سے مٹا دیں گے ہر سمت پکاریں گے دنیا میں نذیر آیا ہر ایک کو جا جا کر پیغام خدا دیں گے کہتی ہے غلط دنیا عیسی ہے ابھی زندہ برہان توفی کی قرآں سے بتا دیں گے نکلیں گے زمانے میں ہم شمع ہدی لے کر ظلمات مٹادیں گے نوروں سے بسا دیں گے اے شاد گماں مت کر کمزور نہیں ہیں ہم جب وقت پڑا اپنی جانیں بھی گنوا دیں گے