کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 33 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 33

59 59 حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ آپ حضرت الصلح الموعودؓ کے صاحبزادے تھے۔آپ کا نام حضرت مرزا طاہر احمد صاحب تھا۔والدہ کا نام حضرت سیدہ مریم صاحبہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے پوتے اور حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب آف کلرسیداں ضلع راولپنڈی کے نواسے تھے۔آپ ۱۸ دسمبر ۱۹۲۸ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے حاصل کی اور ۱۹۴۴ ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔انہی دنوں آپ کی والدہ محترمہ کا انتقال بھی ہو گیا۔گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کی۔بعد ازاں پرائیویٹ طور پر بی اے کا امتحان پاس کیا۔۱۹۴۹ء میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے جامعہ احمد یہ ربوہ میں داخل ہوئے اور شاہد کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۵۵ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے ہمراہ یورپ تشریف لے گئے جہاں سے اکتوبر ۱۹۵۷ ء میں واپس تشریف لائے۔قیام لندن کے دوران وہاں علم بھی حاصل کیا۔یورپ سے واپسی کے بعد دینی خدمات میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔۱۹۵۸ء میں حضرت الصلح الموعودؓ نے آپ کو ناظم ارشاد وقف جدید مقرر کیا اور خلیفہ منتخب ہونے تک اس اہم عہدے پر قریباً ۲۴ سال کام کرتے رہے۔اسی دوران ۱۹۶۰ء میں جلسہ سالانہ ربوہ میں پہلی دفعہ خطاب کیا۔خدام الاحمدیہ میں پہلے مہتم صحت جسمانی پھر ۱۹۶۰ ء سے لیکر ۱۹۶۶ ء تک نائب صدر اور ۱۹۶۶ء سے ۱۹۶۹ ء تک صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے عہدے پر فائز رہے۔جنوری ۱۹۷۰ ء میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں جماعت کی طرف سے جانے والے وفد www۔alislam۔org کے ممبر رہے۔وفد کے امیر حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تھے۔جنوری ۱۹۷۹ ء میں مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے صدر مقرر ہوئے اور خلیفہ منتخب ہونے تک اس اہم عہدہ کی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دیتے رہے۔۱۰ جون ۱۹۸۲ ء کو مسجد مبارک ربوہ میں حضرت مصلح موعود کی مقرر کردہ مجلس انتخاب کا اجلاس ہوا۔اس اجلاس میں آپ کو خلیفہ المسیح الرابع منتخب کر لیا گیا۔مسند خلافت پر فائز ہونے کے بعد ۲۸ جولائی ۱۹۸۲ء کو یورپ کا پہلا دورہ کیا اور ۱۰ ستمبر ۱۹۸۲ ء کو مسجد بشارت سپین کا افتتاح کیا۔اس مسجد کا سنگ بنیاد حضرت خلیفہ ایح الثالث نے ۱۹۸۰ء میں رکھا تھا) پاکستان کے صدر ضیاء الحق نے ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ ء کو اینٹی احمد یہ آرڈینینس جاری کیا جس کی رو سے پاکستان میں احمدیوں پر بعض اصطلاحات کے استعمال اور تبلیغ پر پابندی عائد کر دی گئی۔ان حالات میں آپ بحیثیت خلیفہ مسیح اپنے فرائض کما حقہ انجام نہیں دے سکتے تھے۔اس لئے آپ ۲۹۔اپریل ۱۹۸۴ء کو ربوہ سے ہجرت کر کے ۳۰۔اپریل ۱۹۸۴ء کو لندن پہنچ گئے۔اس کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی کا عظیم الشان دور شروع ہوا۔۱۰ جون ۱۹۸۸ ء کو آپ نے دنیا بھر میں مخالفین کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔۱۹۹۱ء میں جلسہ سالانہ قادیان میں شرکت فرمائی۔۳۱ جولائی ۱۹۹۳ء میں پہلی تاریخی عالمی بیعت جلسہ سالانہ لندن کے دوسرے روز ہوئی جس میں ۸۴ ملکوں کی ۱۱۵ قوموں کے دو لاکھ چار ہزار تین سو آٹھ افراد جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔۷ جنوری ۱۹۹۴ ء سے احمد یہ ٹیلی ویژن نے لندن سے با قاعدہ نشریات شروع کیں۔یورپ اور امریکہ کیلئے ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی ۲۴ گھنٹے کی نشریات کا آغاز یکم اپریل ۱۹۹۶ ء کو ہوا۔آپ ایم ٹی اے کے ان پروگراموں میں بنفس نفیس شرکت فرماتے تھے۔درس القرآن ملاقات لقاء مع العرب ہومیو پیتھی کلاس چلڈرن کا رنز اُردو کلاس۔60 60