کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 32
58 57 نظام کو مضبوط بنیادوں پر قائم کیا۔مئی ۱۹۴۴ء میں تعلیم الاسلام کالج قادیان کے پرنسپل مقرر ہوئے۔۱۹۴۷ء میں یہ کالج پہلے لاہور اور پھر ربوہ منتقل ہو گیا آپ (۱۹۶۵ء تک ) خلیفہ بنے تک اس کے پرنسپل رہے۔فروری ۱۹۴۵ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو مجلس مذہب و سائنس کا نائب صدر مقرر فرمایا۔۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو قادیان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔۱۹۔فروری ۱۹۴۸ ء کو تحریک جدید پاکستان کے ڈائر یکٹر بنے۔ملکی حفاظت کیلئے مقرر ہونے والی احمد یہ جماعت کی فرقان بٹالین کے لئے جون ۱۹۴۸ ء تا جون ۱۹۵۰ ء کشمیر کے محاذ پر خدمات سرانجام دیں۔اکتوبر ۱۹۴۹ء سے ۱۹۵۴ ء تک خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے نائب صدر ر ہے اس وقت صدر حضرت مصلح موعودؓ خود تھے۔یکم اپریل ۱۹۵۳ ء تا ۲۸ مئی مارشل لاء کے تحت آپ کو اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔مئی ۱۹۵۵ء کو صدر صدر انجمن احمدیہ کے اہم عہدے پر مقرر ہوئے اور خلیفہ بننے تک اس عہدہ پر فائز رہے۔۷ نومبر ۱۹۵۵ ء کو صدر مجلس انصار اللہ مقرر ہوئے اور ۱۹۶۸ ء تک رہے۔۱۹۵۹ ء تا نومبر ۱۹۶۵ ءافسر جلسہ سالا نہ رہے۔۸ نومبر ۱۹۶۵ ء کو حضرت مصلح موعودؓ کی وفات پر مجلس انتخاب خلافت نے ساڑھے سات بجے شام آپ کو خلیفتہ المسح الثالث منتخب کیا۔آپ نے اپنے دورِ خلافت میں بیرونی ممالک کے دورے ۱۹۹۷ ء۔۱۹۷۰ء۔۱۹۷۳ء۔۱۹۷۵ء۔۱۹۷۶ء۔۱۹۷۸ء۔۱۹۸۰ء میں کیے۔آپ کے دور خلافت کی اہم تحریکات فضل عمر فاؤنڈیشن - تعلیم القرآن۔وقف عارضی مجلس موصیان۔نصرت جہاں www۔alislam۔org ریز روفنڈ۔احمد یہ صد سالہ جو بلی فنڈ۔اتحاد بین المسلمین۔وقف بعد از ریٹائرمنٹ۔احمد یہ تعلیمی منصو بہ۔آپ کی چندا ہم کتب قرآنی انوار تعمیر بیت اللہ کے ۲۳ عظیم الشان مقاصد۔ہمارے عقائد۔ایک سچے اور حقیقی خادم کے بارہ اوصاف۔المصابیح۔امن کا پیغام اور اک حرف انتباه - وفات ۸ اور ۹ جون ۱۹۸۲ ء کی درمیانی رات پونے ایک بجے بیت الفضل اسلام آباد پاکستان میں ہوئی اور ۱۰ جون ۱۹۸۲ ء کو ربوہ بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔