کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 31 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 31

56 56 55 کے لبوں پر مہر خاموش لگ چکی تھی۔ناچارا نہوں نے تنگ آ کر آپ کو چھوڑ دیا۔حضرت علی انتہائی وفاداری کے ساتھ شروع سے لیکر آخر تک ہر موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔بڑے بڑے معرکے آپ نے سر کئے۔خصوصاً قلعہ خیبر کی فتح کا سہرا آپ کے سر ہے۔اپنے علم وفضل زہد و تقوی، عقل و دانش اور بیمثال شجاعت کے باعث صحابہ کرام میں آپ کو ایک نمایاں مقام حاصل تھا آپ کی انہی خوبیوں اور ایمان واخلاص کی وجہ سے آنحضور ﷺ نے اپنی لخت جگر اور سب سے چھوٹی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی آپ سے کر دی۔حضرت علی بہت صائب الرائے تھے اور ان اصحاب میں سے تھے جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اہم امور سے متعلق مشورہ کیا کرتے تھے اور آپ کا یہ مقام حضرت ابو بکر ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے عہد خلافت میں بھی قائم رہا اور آپ ان تینوں خلفاء کے مشیر خاص رہے اور نہایت وفاداری سے خدمتِ اسلام بجالاتے رہے۔سن ہجری قمری آپ کے مشورے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جاری فرمایا۔حضرت علی ۳۵ھ میں حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ منتخب ہوئے۔حضرت علیؓ نے کل چار سال آٹھ مہینے اور چوبیس دن خلافت کی۔۷ا رمضان المبارک ۵۴۰ (۱۶۱ء) کو آپ صبح کی نماز پڑھنے جارہے تھے کہ راستے میں ایک خارجی ابن ملجم نے آپ پر حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا۔اخلاق و اوصاف حضرت علی اسلام کے نڈر اور بہادر سپاہی تھے آپ کے دینی مرتبہ اور بزرگی کا یہ عالم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عشرہ مبشرہ وفات میں شامل فرمایا۔یعنی ایسے دس صحابہ جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی۔آپ قرآنی علوم و معارف کا ایک خزانہ تھے اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے ماہر تھے آپ عدل و انصاف کے بڑے دلدادہ تھے کسی کی معمولی سی حق تلفی بھی برداشت نہ فرماتے تھے۔www۔alislam۔org حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ آپ حضرت الصلح الموعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔آپ کا نام حضرت مرزا ناصر احمد صاحب تھا۔والدہ کا نام محمودہ بیگم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتے اور حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب کے نواسے تھے۔آپ ۱۶ نومبر ۱۹۰۹ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔۱۳ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کیا بعد ازاں حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب سے عربی اور اُردو پڑھتے رہے۔پھر دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔۱۹۲۹ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔پنجاب بھر سے تیسرے نمبر پر رہے۔میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ۱۹۳۴ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۳۴ء میں ہی مزید اعلیٰ دنیوی تعلیم حاصل کرنے کیلئے انگلستان روانہ ہوئے اور آ کسفورڈ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد قادیان تشریف لائے۔قیام انگلستان کے دوران لندن سے سہ ماہی رسالہ الاسلام جاری کیا۔۲۷ نومبر ۱۹۳۸ء کو جامعہ احمدیہ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔جون ۱۹۳۹ ء تا اپریل ۱۹۴۴ ء جامعہ احمدیہ کے پرنسپل رہے۔اسی دوران کچھ عرصہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے۔فروری ۱۹۳۹ ء میں صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ مقرر ہوئے اور اکتوبر ۱۹۴۹ ء تک نہایت احسن رنگ میں خدمات بجالاتے رہے اور خدام الاحمدیہ کے