کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 30 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 30

54۔۔۔۔53 مساکین میں بالکل مفت تقسیم کیا۔حضرت عمر کی وفات کے بعد خلیفہ منتخب ہوئے۔کارنامے اور فتوحات: حضرت عثمان کے ذریعہ قرآن کریم کی اشاعت صحیفوں کی شکل میں ہوئی۔شمالی افریقہ کی فتوحات ۲۷ ہجری۔قبرص کی فتح مشرقی فتوحات خراسان کی فتح - کرمان - سجستان۔غزنی۔کابل۔طخارستان۔نیشا پور اور اشرس و ماوراء البحر کی فتوحات مغربی فتوحات ایشائے کو چک۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنگِ تبوک کے موقع پر جب سامانِ جنگ کی ضرورت پیش آئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریک فرمائی تو حضرت عثمان نے تین سو اونٹ مع سازوسامان اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش کئے۔جس پر آپ نے فرمایا کہ اب اگر عثمان کوئی نفلی کام نہ بھی کریں تو ان کی یہ قربانی ہی کافی ہے گویا آپ کی یہ قربانی خدا کے نزدیک بڑی عظیم الشان قربانی تھی۔الغرض حضرت عثمان اسلام کے ایک نہایت جلیل القدر اور اعلیٰ پایہ کے بزرگ تھے۔اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو اور آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔www۔alislam۔org بچپن عليسة حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں تھیں سال چھوٹے تھے۔آپ آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے۔آپ کے والد ابوطالب اور والدہ فاطمہ بنت اسد تھیں۔یہ دونوں وہ بزرگ ہستیاں تھیں جنہوں نے بچپن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی محبت اور شفقت سے پرورش کی اور اپنے بچوں سے بڑھ کر آپ سے حسن سلوک کیا۔حضرت علیؓ کی پیدائش کے وقت آپ کے والد کی مالی حالت اچھی نہیں تھی اور عیالدار آدمی تھے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو بچپن سے ہی اپنی کفالت میں لے لیا۔چنانچہ آپ کی تمام پرورش اور تعلیم و تربیت حضور الله کی نگرانی میں ہوئی اور حضرت علی اپنی نیکی تقویٰ اور علم میں کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کے وقت آپ کی عمر صرف دس سال تھی اور آپ اپنے ہم عمر لوگوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔کفار مکہ کے مسلمانوں پر مظالم انتہاء کو پہنچ گئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دینے کا منصوبہ تیار کیا۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم دیا۔کفار نے حملہ کیلئے جو رات مقرر کی تھی اسی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی اور اپنے بستر پر حضرت علی کولٹا دیا۔حضرت علیؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اس قدر سرشار تھے کہ آپ کے ایک اشارے پر فوراً اس خوفناک رات کو آپ ﷺ کے بستر کو پھولوں کی سیج سمجھ کر اس پر لیٹ گئے۔بلاشبہ آپ کا یہ کارنامہ بہادری کا ایک نادر نمونہ ہے۔صبح ہوئی تو قریش کے سردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ حضرت علیؓ کو دیکھ کر بہت غصے ہوئے۔حضرت علی کو خوب ڈانٹ ڈپٹ کی اور آنحضرت ﷺ سے متعلق پوچھنا چاہا مگر آپ کارنامے