کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 29 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 29

52 42 51 فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ پس وہ عبادت کریں اس گھر کے رب کی۔الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعِ وَّامَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ 8 جس نے انہیں بھوک سے (نجات دیتے ہوئے ) کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے امن دیا۔سُوْرَةُ الْمَاعُون بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو بے حد کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے ارَءَ يُتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ 6 کیا تو نے اس شخص پر غور کیا جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُ الْيَتِيمَةٌ پس وہی شخص ہے جو یتیم کو دھتکارتا ہے۔وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِين اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ پس اُن نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ہو۔الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَةٌ جواپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُ وَنَ6 وہ لوگ جو دکھا وا کرتے ہیں۔وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ اور روزمرہ کی ضروریات کی چیزیں بھی (لوگوں سے ) رو کے رکھتے ہیں۔www۔alislam۔org سیرت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نام حضرت عثمان کنیت: ابو عبد الله القابات: صاحب ہجرتین ذوالنورین اور غنی یا والد کا نام : عفان بن العاص یا قبیلہ قریش کی شاخ بنوامیہ والدہ کا نام: اروی بنت کریزین ربیعہ بن حبیب۔نانی : ام حکیم البيضاء یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی تھیں۔واقعہ فیل کے چھٹے سال پیدا ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سال چھوٹے تھے۔بچپن میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔والد کا ذریعہ معاش تجارت تھا۔حضرت ابو بکر کے ذریعہ مسلمان ہوئے آپ کے ساتھ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی ایمان لائے۔ایمان لانے والوں میں آپ کا چوتھا نمبر تھا۔قبول حق کی وجہ سے آپ کا چچا حکیم بن ابو العاص رسیوں سے جکڑ کر مارا کرتا تھا۔قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کیکے بعد دیگرے آپ سے بیاہی گئیں۔پہلے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کی۔مدینہ میں آپ کے مواخاتی بھائی حضرت اوس بن ثابت الا نصاری تھے۔آپ نے تمام غزوات میں شرکت کی سوائے غزوہ بدر کے وہ بھی حضور ﷺ کے حکم سے حضرت رقیہ کی بیماری میں نگہداشت و تیمارداری کیلئے رُک گئے تھے۔حضور ﷺ نے آپ کو بدری صحابہ میں شمار کیا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر بن کر مکہ گئے۔افواہ پھیلی کہ آپ کو مکہ میں شہید کر دیا گیا ہے۔آپ کے خون بہا کے بدلے کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے بیعت لی جو کہ بیعت رضوان کہلائی۔آپ نے بعد مدینہ میں خرید کر وقف کیا۔۷ ہجری میں مدینہ میں قحط پر سینکڑوں اونٹ اور غلہ غرباء اور