کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 17
28 28 27 پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اک قمر اس پر ہر ہے اک نظر نظر ہے بدر الدلے یہی ہے وہ آج شاہ دیں ہے وہ تاج مرسلیں ہے وہ طیب و امیں ہے اس کی ثناء یہی ہے اُس نُور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے دلبر یگانہ علموں علموں کا وہ ہے خزانه سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے دنیا میں عشق تیرا باقی ہے سب اندھیرا معشوق ہے ہے تو میرا عشق صفا یہی اس عشق میں مصائب سو سو ہیں ہر قدم میں پر کیا کروں کہ اس نے مجھ کو دیا یہی ہے حرف وفا نہ چھوڑوں اس عہد کو نہ توڑوں اس دلبر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے جب سے ملا وہ دلبر دشمن ہیں میرے گھر گھر دل ہو گئے ہیں پتھر قدر و قضا یہی ہے اس دیں کی شان و شوکت یا رب مجھے دکھا دے سب جھوٹے دیں مٹا دے میری دعا یہی ہے www۔alislam۔org ترانه اطفال ہے مری رات دن بس یہی اک صدا کہ اس عالم کون کا اک خدا ہے اسی نے ہے پیدا کیا اس جہاں کو ستاروں کو سورج کو اور آسماں کو ہے ایک اس کا نہیں کوئی ہمسر وہ مالک ہے سب کا وہ ہے سب پر وہ ہمیشہ ہے باپ اس کا ہے ہے اور ہمیشہ کوئی بیٹا رہے گا نہیں اس کو حاجت کوئی بیویوں کی ضرورت نہیں اس کو کچھ ساتھیوں کی حاصل ہر اک چیز پر اس کو قدرت ہے ہر اک کام کی اس کو طاقت ہے حاصل پہاڑوں کو اس نے ہی اونچا کیا ہے سمندر کو اس نے ہی پانی دیا ہے یہ دریا جو چاروں طرف بہہ رہے ہیں اسی نے تو قدرت ނ کی مچھلی سمندر گھریلو پیدا کئے ہیں ہوا کے چرندے بنوں پرندے کے درندے سبھی کو وہی رزق پہنچا رہا ہے ہر اک اپنے مطلب کی شئے کھا رہا ہے