کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 14
سے ہلاکت ہوئی۔21 سے ملاقات ہوئی۔22 22 ۹ مارچ: امریکہ میں ڈاکٹر ڈوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہوا۔ے۔اپریل : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالف منشی الہی بخش اکا ؤنٹنٹ کی ہلاکت ہوئی۔ے مئی: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بذریعہ اشتہار جماعت احمد یہ کوملکی شورش میں امن کے ساتھ رہنے کی تلقین فرمائی۔66 ۱۲ جولائی: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ”مرزا غلام احمد کی بجے ہوا۔ستمبر: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وقف زندگی کی پہلی منظم تحریک فرمائی۔۱۳۔احباب نے وقف کیا۔۲۸ دسمبر : صدرانجمن احمدیہ کی کانفرنس ہوئی۔اس سال عبد الکریم نامی طالب علم کو پاگل کتے نے کاٹ لیا۔ڈاکٹروں نے بظاہر جواب دے دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے بظاہر لا علاج مریض کو شفائے کامل ہوئی۔یہ احیائے موتی کے نشان کے نام سے مشہور ہے۔١٩٠٨ء۔اپریل : گورو ہر سہائے ضلع فیروز پور میں باوا نانک کے تبرکات میں قرآن کریم کا انکشاف ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک وفد بھجوایا جس نے وہ قرآن دیکھا۔۲۹۔اپریل کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری سفر پر لاہور آئے اور احمد یہ بلڈنگز برانڈرتھ روڈ لاہور میں قیام فرمایا۔۲ امئی: انگلستان کے ماہر ہئیت دان پروفیسر ریگ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام www۔alislam۔org ۱۷مئی: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پبلک لیکچر دیا اور رؤسائے لا ہور کو پیغام حق پہنچایا۔۱۸مئی: پروفیسر ریگ کی دوبارہ ملاقات بعد میں وہ احمدی ہو گئے۔۲۰ مئی: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی وفات کے متعلق الہام ہوا الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ وَالْمَوتُ قَرِيبٌ۔۲۵ مئی : احباب جماعت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آخری خطاب کیا اور بعد نماز عصر آخری سیر کی۔آخری کتاب ”پیغام صلح، کی تکمیل فرمائی۔شام کو مرض الموت کا آغاز۔۲۶ مئی: ساڑھے دس بجے دن ۷۳ برس کی عمر میں حضرت مسیح موعود السلام احمد یہ بلڈنگز لا ہور میں وفات پاگئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اڑ ہائی بجے دن جنازه لاہور میں پڑھا گیا۔پونے چھ بجے بذریعہ ریل گاڑی لاہور سے بٹالہ لے جایا گیا۔ٹرین دس بجے رات بٹالہ پہنچی۔احباب جسدِ مبارک کو کندھوں پر اٹھا کر بٹالہ۔قادیان کے لئے روانہ ہوئے۔ނ ۲۷ مئی: ۸ بجے صبح احباب جنازہ لیکر قادیان پہنچے۔تمام احباب جماعت نے حضرت مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جانشین اور جماعت احمدیہ کا پہلا خلیفہ منتخب کیا اور بیعت کی۔بعد نماز عصر حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جنازہ پڑھایا اور احباب جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری دیدار کیا۔شام چھ بجے حضور علیہ السلام کا جسد مبارک سینکڑوں اشکبار آنکھوں اور غمزدہ دلوں کے ساتھ بہشتی مقبرہ قادیان کی خاک مقدس کے سپر د کر دیا گیا۔