کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 31 of 41

کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل) — Page 31

51 50 50 رات کو غار ثور میں پناہ لی۔حضرت ابو بکر کے بیٹے دن بھر مکہ کے حالات معلوم کر کے رات کو حضور ﷺ کو اطلاع دیتے۔آپ کے غلام نبیرہ مکہ میں بکریاں چرا کر شام کو غار کے قریب آ کر دودھ دے جاتے۔سفر میں راہنمائی کیلئے عبداللہ بن اریقط کو اجیر مقرر کیا۔غار ثور میں حضرت ابو بکر نے داخل ہو کر اسے صاف کیا اور اس کے اندر کے سوراخوں کو اپنی چادر پھاڑ کر بند کیا ایک سوراخ رہ گیا تو چادر ختم ہو گئی اس پر اپنی ایڑی رکھ کر حضور ﷺ کو اندر بلایا۔حضرت ابو بکر کے زانو پر اپنا سر مبارک رکھ کر حضور و نے آرام فرمایا۔کچھ دیر بعد اس سوراخ سے سانپ نے حضرت ابو بکر کو کاٹ لیا۔تکلیف کی وجہ سے بے چین ہوئے مگر حضور ﷺ کو نہ جگایا۔حضور ﷺ بیدار ہوئے تو پوچھا کیا بات ہے۔آپ ﷺ نے بیان کیا تو آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن لگایا تو فوراً آرام آ گیا۔کفار حضور ﷺ کی تلاش کرتے غار ثور تک آگئے تو حضرت ابو بکر فکرمند ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔آخر دشمن وہاں سے ناکام لوٹ گئے۔دوران ہجرت حضرت زبیر نے شام سے تجارت کا سامان لاتے ہوئے حضور ﷺ کی خدمت میں دو سفید جوڑے پیش کئے۔ایک حضور ﷺ کے لئے دوسرا حضرت ابوبکر کیلئے۔مدینہ آمد سے قبل چودہ دن قباء مقام میں قیام کیا اور حضور ﷺ نے صحابہ کے ساتھ مل کر مسجد قباء بنوائی مدینہ میں یہ پہلی مسجد تھی۔www۔alislam۔org مدینہ کی آب و ہوا اکثر مہاجرین کو موافق نہ آئی۔حضرت ابو بکر سخت بیمار ہو گئے حضور ﷺ تشریف لائے اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھایا۔اے خدا! تو مکہ کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ مدینہ کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا کر اور اس کو بیماریوں سے پاک کر دے اور اس کے صاع اور مد میں برکت دے اور اس کے وبائی بخار کو حجفہ میں منتقل کر دے دعا کے نتیجہ میں حضرت ابو بکر اور دیگر مہاجرین صحابہ ٹھیک ہو گئے اور مدینہ کی آب و ہوا ان کیلئے بہتر ہوگئی۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے سامنے حضرت ابو بکر کا ذکر آیا تو آپ رونے لگے اور فرمایا کہ میرے سارے اعمال نیک ان کے ایک دن اور ایک رات کے برابر نہیں ہو سکتے۔رات وہ ، جس رات کہ وہ حضور ﷺ کے ساتھ غار میں تشریف لے گئے اور دن وہ، جب حضور ﷺ کی وفات پر عرب کے بعض قبائل نے زکوۃ دینا بند کر دی تو آپ نے ان سے وصول کی۔تمام غزوات میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے اور مناسب مشورے بھی دیتے تھے۔حضور ﷺ کی اجازت سے حضرت ابو بکڑ اپنی زرعی زمین پر تشریف لے گئے۔واپسی پر معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی وفات ہو چکی ہے آپ سیدھے حضرت عائشہ کے گھر گئے چہرہ مبارک سے چادر اٹھا کر پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور باہر آئے تو حضرت عمر مجمع سے کہہ رہے تھے کہ خدا کی قسم حضور ﷺ اس دنیا سے تشریف نہیں لے گئے۔آپ نے حضرت عمر سے فرمایا بیٹھ جاؤ اور تقریر کیلئے کھڑے ہوئے اور فرمایا جو لوگ محمد ﷺ کی عبادت کرتے تھے تو بے شک وہ فوت ہو چکے ہیں اور جولوگ خدا کی عبادت کرتے تھے تو بیشک وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔خدا فرما تا ہے کہ محمد ﷺے صرف ایک رسول ہیں۔ان سے پہلے بھی سب رسول فوت ہو چکے ہیں کیا اگر یہ فوت ہو گئے یا قتل کئے گئے تو کیا تم