کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل) — Page 30
49 48 سيرة حضرت ابوبکر صدیق نام: عبد الله کنیت ابوبکر لقب: صدیق اور عتیق والد کا نام عثمان کنیت ابو قحافہ حضرت ابو بکر مردوں میں سے سب سے پہلے ایمان لائے۔بیعت کے وقت عمر ۳۸ برس تھی۔پیشہ کے لحاظ سے تاجر تھے۔خون بہا اور جرمانہ کے مقدمات کے فیصلے آپ کرتے تھے۔شراب سے ہمیشہ نفرت کرتے تھے۔آپ کے ذریعہ سے مسلمان ہونے والے صحابہ میں حضرت عثمان۔حضرت زبیر۔حضرت عبدالرحمان بن عوف۔حضرت سعد بن ابی وقاص۔حضرت طلحہ۔حضرت عثمان بن مظعونؓ۔حضرت ابو عبیدہ - حضرت ابوسلمہ - حضرت خالد بن سعید ( ان میں سے پانچ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں ) آپ نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائی جس میں خشوع و خضوع سے عبادت کرتے اور تلاوت قرآن کریم کرتے جس سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ جمع ہو جاتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر سے مشورہ کیا کرتے تھے۔غلاموں کو خرید کر آزاد کرتے۔حضور ﷺ کے سفر میں شریک ہوتے۔www۔alislam۔org ایک بار حضور ﷺ نماز پڑھ رہے تھے عقبہ بن محیط نے آپ ﷺ کے گلے میں پھندا ڈالا حضرت ابوبکر پہنچ گئے۔اس کو پکڑ کر علیحدہ کیا اور فرمایا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کر دو گے جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔قریش کے مظالم سے تنگ آکر حضور ﷺ کی اجازت سے حبشہ جانے کیلئے روانہ ہوئے۔راستہ میں قبیلہ قارہ کا رئیس ابنُ الدَّغِنَه ملا۔پوچھا کہاں کا قصد کیا ہے فرما یا قوم نے مجھے چین سے رہنے نہیں دیا۔اس لئے ارادہ ہے کہ کسی اور ملک چلا جاؤں۔اس نے کہا تم محتاجوں کی مدد کرتے۔عزیزوں کا خیال رکھتے ہو۔مہمان نوازی کرتے ہو۔مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہو۔تم کو جانا نہیں چاہئے تم میرے ساتھ چلو میں تمہارا ذمہ لیتا ہوں تم اپنے وطن میں ہی اللہ کو یاد کرو۔واپس آکر تمام قریش میں اپنی ذمہ داری کا اعلان کر دیا۔قریش نے مان لیا لیکن یہ کہا کہ اپنے گھر میں ہی عبادت کریں۔باہر نہ کریں۔بعد میں قریش کے دباؤ پر ابن الدغنہ نے حضرت ابو بکڑ سے معذرت چاہی تو آپ نے فرمایا اب مجھے تمہاری پناہ کی حاجت نہیں مجھے خدا اور رسول کی پناہ کافی ہے۔میں اسی طرح عبادت کروں گا۔ابن الدغنہ کی مخالفت کے بعد مدینہ کا ارادہ کیا۔اجازت چاہی تو حضور ﷺ نے فرمایا جلدی نہ کرو کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی اور بندے کو بھی تمہارے ساتھ کر دے جو تمہارا سفر کا رفیق ہو۔آپ نے سمجھ لیا کہ اس سے حضور ﷺ نے اپنی ذات پاک مراد لی ہے۔آپ نے ہجرت کی نیت سے دو اونٹیاں آٹھ سو درہم میں خرید لیں۔ہجرت کی اجازت ملنے پر حضور علیہ حضرت ابو بکر کے گھر مشورہ کیلئے گئے اور ساتھ ہی انہیں خوشخبری دی کہ آپ میرے رفیق سفر ہونگے۔ہجرت کیلئے ایک اونٹنی کی قیمت حضور ﷺ نے ادا کی۔