کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل) — Page 29
47 46 تو آپ ابو طالب کے ساتھ شام کے تجارتی سفر پر گئے۔یہ آپ کا پہلا سفر تھا۔بفری کے مقام پر بکیرہ نام عیسائی راہب نے آپ کو دیکھ کر کہا اس میں نبوت کی علامات ہیں اور جلد ہی نبوت کے منصب پر سرفراز ہوں گے۔راہب کے مشورہ سے ابوطالب نے آپ کو واپس مکہ بھیج دیا۔لڑکپن میں چا کے زیر سایہ تجارت کا تجربہ حاصل کر کے تجارت شروع کی۔تجارت کے سلسلہ میں یمن، شام اور دیگر علاقوں کے سفر کئے۔جاہلیت کی خرافات سے ہمیشہ دور رہے۔جب عمر پندرہ برس ہوئی تو قبیلہ قیس اور کنانہ سے قریش کی جنگ چھڑ گئی جو کہ حرب فجار کے نام سے مشہور ہے اس میں اپنے چچاؤں کو تیر پکڑاتے رہے۔حلف الفضول کے معاہدہ میں شامل ہوئے۔جس کی شرائط یہ تھیں: 1۔آئندہ آپس میں جنگ و جدل نہیں کریں گے۔۲۔ملک سے بدامنی دور کریں گے۔۳۔مسافروں کی حفاظت کریں۔۴۔غریبوں کی امداد کریں۔۵۔ظالموں کو ظلم سے روکیں۔تجارت میں ہمیشہ خاصہ فائدہ رہا۔حضرت خدیجہ کا سامان تجارت لے کر بصری گئے دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ منافع ہوا۔سفر سے واپسی پر ان کے غلام میسرہ نے آپ کی بہت تعریف کی اور رائے دی کہ مکہ میں ان کی برابری کا کوئی نوجوان نہیں۔حضرت خدیجہ نے متاثر ہو کر شادی کی خواہش کی۔اس وقت ان کی عمر ۴۰ سال اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۲۵ سال تھی۔چچا حضرت ابو طالب کے مشورہ سے رشتہ قبول کیا۔حضرت خدیجہ کے بطن سے حضور ﷺ کے چار بیٹے قاسم طیب طاہر اور عبداللہ رضی اللہ عنھم چار بیٹیاں زینب رقیہ ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ شخص پیدا ہوئیں۔بعثت سے قبل خانہ کعبہ کی تعمیر میں حصہ لیا اور حجر اسود رکھنے کے لئے اپنی چادر بچھا کر www۔alislam۔org قبائل کے جھگڑے کا مسئلہ حل کیا۔اس وقت حضور ﷺ کی عمر ۳۵ برس تھی۔حق کی تلاش اور اللہ کی عبادت کیلئے غار حرا میں چلے جاتے۔غار حرام گز لمبی اور پونے دوگز چوڑی تھی۔غار میں فرشتہ نے کہا اقرا ( پڑھ ) آپ ﷺ نے فرمایا مَا أَنَا بِقَارِئ “ میں پڑھنا نہیں جانتا۔اس نے آپ ﷺ کو پکڑ کر دبایا اور کہا اقرأ آپ نے وہی جواب دیا پھر تیسری بار ایسا ہی ہوا۔تو آپ ﷺ کی زبان پر اِقْرَأَ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ کے الفاظ جاری ہوئے۔یہ پہلی وحی تھی۔اعلانیہ تبلیغ نبوت کے چوتھے سال شروع ہوئی اور اپنے قبیلے کو دعوت طعام دے کر تبلیغ کی۔سوائے حضرت علیؓ کے سب خاموش رہے۔اسلام کے پہلے شہید حضرت حارث بن ابی ھالہ تھے۔حضور ﷺ نے آغاز میں محفلوں، میلوں اور بازاروں میں تبلیغ کی۔گھر گھر جا کر برائیوں سے منع کرتے۔حضور ﷺ کو قریش قسما قسم کی تکالیف دیتے مثلاً راستے میں کانٹے بچھاتے دروازے پر گندگی پھیلاتے، پتھر مارتے آوازے کستے تاکہ تبلیغ سے باز آجائیں۔مزید روکنے کیلئے قریش کا ایک وفد حضرت ابوطالب کے پاس آیا اور اپنے بھتیجے کو تبلیغ سے روکنے کیلئے کہا اور دھمکی بھی دی۔حضرت ابوطالب نے حضور ﷺ سے کہا بیٹا میرے اوپر اتنا بار نہ ڈال کہ میں اس کو اٹھا بھی نہ سکوں۔حضور ﷺ اپنے چا کے الفاظ سن کر آبدیدہ ہو گئے اور کہا اے میرے چچا اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج رکھ دیں اور بائیں ہاتھ پر چاند تو بھی میں اسلام کی تبلیغ سے رک نہیں سکتا۔خدا کی قسم میں اس وقت تک اس کام سے نہیں رکوں گا جب تک کامیاب نہ ہو جاؤں یا مارا نہ جاؤں۔اس پر حضرت ابو طالب نے جوش میں آ کر کہا تو اپنا کام کئے جا کوئی تیرا بال بیکا نہ کر سکے گا اور آپ ﷺ کے چچانے اس قول کو آخر دم تک نبھایا۔