کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 13 of 41

کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل) — Page 13

15 14 7 وضوکرنا 1۔نماز سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے۔2۔وضو سے پہلے حاجات ضرور یہ سے فارغ ہو لینا چاہئے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ لَا صَلوةَ وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأخْبَثَانِ یعنی اس حالت میں نماز نہیں ہوتی جب دو سخت نا پاک چیزیں (پیشاب اور پاخانہ ) اسے روک رہی ہوں۔3 جب وضو کر نے لگیں تو پہلے بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھیں کیونکہ بِسْمِ الله وضوكئ وضو نماز کی اور نماز جنت کی چابی ہے۔4۔وضو کا طریق یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھونا پھر کلی کرنا ناک میں پانی ڈالنا بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا تمام چہرے کو پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور دونوں کانوں کی کو تک دھونا۔دونوں بازو کہنیوں تک دھونا، پھر سر کا مسح کرنا وہ اس طرح کہ دونوں ہاتھ تر کر کے پیشانی سے گری تک لے جائیں (سر کے کچھ حصہ کا مسح کر کے گیلا ہاتھ پگڑی یا ٹوپی کے اوپر پھیر لینا بھی جائز ہے ) اس کے بعد کانوں کے سوراخوں میں شہادت کی انگلیاں ڈال کر انگوٹھوں کو کانوں کی پشت پر ایک بار پھیریں اور پھر الٹے ہاتھ گردن پر پھیر کر گردن پر بھی مسح کریں۔آخر میں دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھونا لیکن ہر عضو پہلے دایاں اور بعد میں بایاں اور ہر عضو تین بار دھونا افضل ہے مگر ایک بار یا دو بار بھی جائز ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ ایک عضو کے خشک ہونے سے پہلے دوسرا دھولیں۔5۔وضو کرتے وقت مسواک کرنا اور داڑھی میں خلال کرنا مسنون ہے۔6۔وضو کر کے جرابیں پہن لی جائیں تو جرابوں اور موزوں پر مقیم چوبیس گھنٹے اور مسافر تین دن تک مسح کر سکتا ہے۔7۔وضو کرتے وقت کلمہ شہادت پڑھتے رہنا چاہئے اور ادھر اُدھر کی باتوں سے بچنا چاہئے۔www۔alislam۔org 8۔نماز کے آداب وضو کر کے نماز کی ادائیگی کیلئے وقار اور ادب سے چل کر جائیں۔دوڑ کر نماز میں شامل نہ ہوں۔نماز کیلئے جاتے ہوئے غور کر لیں کہ کن کن نیکیوں کا تحفہ خدا کے حضور لے کر جارہے ہیں اور کس کس گناہ کی تو بہ کرنی ہے۔نماز با جماعت میں صفیں بالکل سیدھی ہوں۔صفوں میں کھڑے افراد کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور درمیان میں خالی جگہ نہ ہو۔لوگ جب صفیں بنا ئیں اور انہیں اپنی صف سے اگلی صف میں خالی جگہ نظر آئے تو اسے پر کریں۔نماز کا تمام عمل اطمینان اور وقار کے ساتھ ادا کریں۔جلدی جلدی ادا نہ کریں۔نماز کے الفاظ ٹھہر ٹھہر کر اور سنوار کر ادا کریں اور توجہ نماز کے الفاظ اور ان کے مطالب کی طرف رہے کوشش کریں کہ ادھر ادھر کے خیالات ذہن میں نہ آئیں۔نماز میں ادھر اُدھر دیکھنا، اشارہ کرنا باتیں کرنا باتیں سنا وغیرہ اور غیر ضروری حرکت کرنا منع ہے۔نماز ادا کرتے ہوئے کسی چیز کا سہارا لینا منع ہے اور نہ ہی ایک پاؤں پر زور دے کر کھڑا ہونا چاہئے۔نماز ہمیشہ چستی اور توجہ سے ادا کریں سستی اور کاہلی سے نہیں۔باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے امام کی حرکت سے پہلے کوئی حرکت نہ کریں بلکہ امام کی مکمل پیروی کریں۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد فور انہیں اٹھ جانا چاہئے بلکہ تھوڑی دیر ذکرالہی میں گزاریں۔ی کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے پاس شور کرنا یا اونچی آواز میں باتیں کرنا منع ہے۔یہ نماز مقررہ وقت پر ادا کریں۔نماز جمعہ سے قبل خطبہ خاموشی سے سنیں۔اگر کسی کو خاموش کروانا ہوتو بھی اشارہ کے ساتھ خاموش کرائیں۔خطبہ کے دوران تنکوں اور کنکریوں سے بھی نہ کھیلیں کیونکہ خطبہ بھی نماز جمعہ کا ہی حصہ ہوتا ہے۔