کلمۃ الفصل — Page 70
ریویو آب المجزر 109 آتا ہے والذین یؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك بالأخرة هم یو قنون۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف نبی کریم اور آپ کے پہلے انبیاء پر ایمان ا نفروری ہے بعد میں آنیوالے پر ایمان لانا ضروری نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں تو رسولوں کا ذکر نہیں بلکہ الہام الہی اور کتب کا ذکر ہے جیسے ما انزل اليك وما انزل من قبلک سے ظاہر ہے اب چونکہ نبی کریم کے بعد کوئی نئی وحی شریعت نہیں اس لیے آپ کے بعد کے زمانہ کا ذکر ضروری نہ تھا۔اسی وجہ سے اسے چھوڑا گیا۔ہاں چونکہ ہمارے لیے ما انزل اليك وما انزل من قبلاک پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے اسلئے ہمارا فرض ہے کہ دیکھیں کہ ما انزل الیک اور نما انزل من قبلک میں کیا تعلیم دیتی ہے۔اب ما انزل الیک یعنی قرآن میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو سارے نبیوں کو ماننا ضروری نہیں سمجھتے اور بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں وہ پکتے کافر ہیں۔دوسرے معترض کو اتنا تو دور کرنا چاہئے تھا کہ قرآن کریم کی آیت لا نفرق بين اخد من س مسلہ ایک اصول کے رنگ پر ہے۔ار صحابہ کرام میں سے کسی ایک کے منہ سے یہ کلمہ نکلتا تھا تو اسکا مطلب یہ ہوتا تھاکہ میں نبی کریم اور آپسے پہلے گذرے ہوئے تمام انبیاء کو مانتا ہوں کین اس زمانہ میں چونکہ لفظ ہر سال کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی ہو چکی ہے اس لیے لا نفری بین احد من رسله حقیقی طور پر صرف اس شخص کا قول ہو سکتا جو اس میں مسیح موعود کو بھی شامل تھے۔یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ مسیح موعود کی بعثت سے پہلے رسل کے مفہوم میں محمد رسول اللہ مینی سینی زکریا سلیمان داؤد موسی یوسف یعقوب افق اسمعیل ابراهیم نوح علیهم السلام شامل تھے مگر مسیح موعود نہ تھا لیکن مسیح موعود جب دنیا میں آگیا ہے اور ایک سوال کی حیثیت میں لوگوں کے سامنے کھڑ ا ہوا تو پھر اسے بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا۔اگر آیت کر میم میں لفظ رسل کے مفہوم میں صرف آنحضرت اور اپنے پہلے گزری ہور کا سال تھے تو قرآن کریم اس آیت کو کبھی اصول کے رنگ میں پیش کرتا گھر اس نے تو اسے ایک اصول ٹھہرایا ہے اور یہ تاباں ہے کہ مومن وہی ہوتا ہے جس کا یہ قول ہو تو پھر ، کیسے غضب کی بات ہے کہ مسیح موعود کو لغفار سال میں شامل نہ کیا جاوے اگر وہ خدا کا رسول ہے تو ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں اُس پر ایمان لانا بھی ضروری