کلمۃ الفصل — Page 71
14۔کا لفصل جل ہے پھر شاید معترض کی اس طرف نظر نہیں گئی روما انزل من قبلات کے آگے و بالآخرة هم یو قنون بھی لکھا ہوا ہے۔یہاں یوم الأحترق کا لفظ تو نہیں ہے کہ ہم ضرور جز اروسا کے دن کے معنی کریں بلکہ اس سے نبی کریم کے بعد نازل ہونے والا المهام مراد ہے کیونکہ یہاں طمانات کا ہی ذکر ہے پس ہم کہتے ہیں کہ دہی بیج موعود ہے اور یہ نی لینے اپنے پاس سر نہیں کیئے بلکہ خود حضرت مسیح موعود نے آخرت سے اپنی وحی مراد لی ہے اور حضرت خلیفہ اول نے بھی جو پہلا پارہ با ترجمہ چھپوایا تھا ان میں آخرہ سے مراد مبین موعود کا الہا میا ہے۔غرض معترض خواہ ہزار سر پیٹے اب مسیح موعود کے ماننے کے بغیر تو نجات نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ آسمانی نوردوں میں سے آخری نور ہے اور اسکے بغیر سب تاریکی ہے۔پھر ساتواں اعتراض یہ کیا جاتاہے کہ مسیح موعود تو آنحضرت کا ایک خلیفہ تھا اس لیئے اس کا منکر تو فاسق ہوا نہ کہ کافر۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ غیر احمدیوں کے ڈر سے تمھا۔خون خشک ہوتا ہے تم بھلا ان کو فاسق کیوں کہنے لگے۔اچھا اگر کچھ بہت ہے اور یہ قول تمھارا نفاق پر مبنی نہیں تو اپنے اخبار میں موٹے الفاظ میں چھپوا دو کہ چونکہ سیح موعود نبی کریم کا خلیفہ ہے اس لیے ہم تمام غیر احمدیوں کو بموجب قرآن کریم کی تعلیم کے فاسق سمجھتے ہیں تب ہم مان لیں گے کہ آپ کا یہ قول کہ مسیح موعود نبی کریم کا چونکہ خلیفہ ہے اس لیے اس کا منکر کافر نہیں بلکہ فاسق ہے نفاق پر منی نہیں ورنہ عورتوں کی طرح اپنے گھروں کی چار دیواری میں بیٹھ کر باتیں بنانے کے ہم قائل نہیں۔اگر بہت ہے تو مرد میدان بنو اور اپنے قومی کوشائع کرو ورنہ ہم سمجھ لینگے کہ آئے گی مسیح موعود کو آنحضرت کا خلیفہ بھی نہیں مانتے۔میں اس بات پر علی وجہ البصيرة قائم ہوں کہ آپ لوگوں کو خلافت ثانی کا ابتلا نہیں ہے بلکہ خلافت کے مسئلہ کو تو ایک آڑ بنالیا گیا ہے ورنہ در اصل حضرت مسیح موعود کے دعاوی کے متعلق سارا ابتداء ہے لیکن چونکہ ایک دفعہ ان کو سیع موجود مان چکے ہو وہ اپنی بہت نہیں رکھتے کہ عبد الحکم خان کی طرح کھلے لفظ میں انکار کر دو اس لیے ساتھ لگے چلے جاتے ہو۔اگر آپ سارے ایسے نہیں تو کم از کم آپ میں سے بعض تو یقیناً در پرده احمدیت کو اشاعت اسلام کے لیے سم قاتل ٹھہرا چکے ہیں۔اسہ لیسی اس کے متعلق اہم ایک شہادت معصوم ہوا کے حاشیہ پر درج کہتے ہیں انشا اللہ اس شہا دت سے معترضین کے اعتراضش على منه