کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 63 of 95

کلمۃ الفصل — Page 63

١٥٢ صل جلد آتا رہا۔مجھے معلوم نہیں کہ آپ مقلد ہیں یا غیر مقلد ہیں پھر آپ کی استعداد کس قدر ہے جوابات کے لیے مخاطب کی حالت اگر معلوم ہو تو جیب کو بہت آرام ملتا ہے بہر حال گزارش ہے۔آپ کفر دون کفر کے قائل معلوم ہوتے ہیں کیونکہ آپنے کفر کے سادات کالا تذکرہ خط میں بہت فرمایا ہے۔میاں صاحب با رسولوں میں تفاضل تو نر در ہے اللہ فرماتا ہے تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض ابتداء بارہ تیسرا۔جب رسل میں مساوات نہ رہی تو اسکے انکار کی مساوات بھی آپ کے طرز پر نہ ہو گی تو آپ ایسا خیالی فرمالیں کہ موسی علیہ السلام کے میچ کا منکہ جس فتوے کا مستحق ہے اس سے بڑھکر خاتم الانبیاء کے بیچ کا منکر ہے صلواۃ اللہ علیہم اجمعین۔میاں صاحب اللہ تعالٰی مومنوں کی طرف سے ارشاد فرماتا ہے کہ ان کا قول ہوتا ہے لا نفرق بین احد من رسله اور آپ نے بلا وجہ یہ تفرقہ نکالا کہ صاحب شریعت کا منکر کا فر ہو سکتا ہے اور غیر صاحب شرع کا منکر کا فرنہیں مجھے ایس تفرقہ کی وجہ معلوم نہیں ہوئی۔نیز عرض ہے خلفاء کے منہ پر بھی کفر کا تو میقان مجید میں موجود ہے۔آیت خلافت جو سورۃ نور میں ہے اسمیں ارشاد الہی ہے ومن كفر بعد ذلك فأولينك هم الفسقون اور فاسق کو اللہ تعالٰی نے مومن کے مقابلہ پر رکھا ہے۔ارشاد ہے اطمن کان مومنا لمن كان فاسقام بلکہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولوں میں تفرقہ کنندے کو قرآن کریم نے کافر فرمایا ہے پارہ چنے میں ہے یفرقون بین الله ورسله پھر مایا او ليك هم الكافرون حقاً پاره چه رکوع اول یہاں تفرقه بین الله و بین الرسل کے بچے کفر کا بات قرار دیا ہے۔جن دلائل وجوہ سے ہم لوگ قرآن کریم کو مانتے ہیں انہیں دلائل و وجوہ سے ہمیں میسج کو ماننا پڑا ہے اگر دلائل کا انکار کریں تو اسلام ہی جاتا ہے۔آپ اس آیت پر خود و اویں واذا قيل لهم أمنوا بما انزل الله قالوا نو من بما انزل الينا ويكفرون بما وراءه وهو الحق مصدقا لما معهم - دلائل کی مساوات پر مدلول کی مساوات کیوں نہیں مانی جاتی کیا آپ کے نزدیک مسلم رسا و حساب شرمیت