کلمۃ الفصل — Page 56
ریویو آف ریلیجز ۱۴۵ سیح موعود کو نہیں مانتا اور اسکے لائے ہوئے ایمان کو قبول نہیں کرتا اسکو مومن کہنا اس شخص کا کام ہے جو یا تو حدیث کو غلط قرار دیتا ہے اور یا مسیح موعود کو فارسی النسل انسان نہیں جانتا۔اللہ تعالی ہمیں ان دونوں سے بچا دے پھر ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ من مات ولم یعروف امام زمانه فقد مات ميتة الجاهلية یعنی جو شخص انام وقت کی شناخت کے بغیر کر جاتا ہے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔اس جگہ جاہمیت سے مراد کفر ہے کیونکہ زمانہ جاہمیت اس زمانہ کا نام ہے جو نبی کریم سے پہلے عرب پر گذرا اور وہ کفر کا زمانہ ہے۔حضرت مسیح موعود نے بھی جاہلیت کے معنی صراط مستقیم سے محروم رہنے کے لیئے ہیں دیکھو حقیقۃ الوحی صفر ۱۴۷ پس یہ یقینی بات ہے کہ جو امام وقت کو شناخت کرنے کے بغیر مرتا ہے وہ کفر پر مرتا ہے۔اب دیکھو ی موعود امام وقت تھا یا نہیں؟ اگر وہ وقت کا امام نہ تھا تو بیشک اسکا انکار کفر نہیں لیکن اگر وہ امام وقت تھا اور ضرور تھاتو یہ بات یقینی ہے کہ اس کا انکار کفر ہے۔معلوم ہوتا ہے جو لوگ حضرت مسیح موعود کے منکروں کو کفر پر نہیں سمجھتے وہ در پردہ مسیح موعود سے پھر گئے ہوئے ہیں اور آپ کو امام نہیں مانے کیونکہ اگروہ در حقیقت مسیح موعود کو وقت کا امام جانتے ہیں تو اسکے انکار کو جاہلیت اور کفر کیوں نہیں سمجھتے۔نفاق آخر کہاں تک چلیں گا۔پھر ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم نے فرمایاکہ میری امت بھی ایک وقت یہودی صفت ہو جائیگی اور پاک ان کے قدم بقدم چلنے لگ جائیگی حتی کہ اگر یہود میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہے و یہ بھی کرینگے۔اس حدیث میں اشارہ تھا اس طرف کہ اس امت میں سے ایک بیٹی پیدا ہو گا کیونکہ جب تک عیسی پیدا نہ ہو مسلمانوں کی یہود سے مشابہت پوری نہیں ہوتی اب جبکہ وہ عینی موجود پیدا ہو گیا تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم اسکے منکروں کو یہود سمجھیں اور یہود جو کچھ ہیں اسکو آپ لوگ جانتے ہی ہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ چونکہ یہ عیسی پہلے جیسی سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اس لئے اس زمانہ کے یہودی بھی مسیح نامری کے منکروں سے کفر میں کہیں بڑھ پڑھکر ہیں۔پھر ایک یہ حدیث ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ : عن عبد الله بن عمر وتفترق امتی على ثلث وسبعين امة كلهم فى النار الأملة واحدة۔وعن معاوية ثنتان وسبعون في النار واحدة في الجنة