کلمۃ الفصل — Page 55
۱۴۴ کا لفصل جلد ۱۴ ہوا اور وہ یہ ہے ڈرومت مومنو اس میں حضرت صاحب کی وفات کی نسبت پیشگوئی متقی اور بتا یا گیا تھا کہ آپ جلد وفات پا جانے والے ہیں لیکن چونکہ آپ کی وفات سے آپکے متبعین کو ایک صد عظیم پہنچنا تھا اس لیئے اللہ تعالی نے بڑے رحم کے ساتھ پہلے سے ہی تسلی دیدی اور کہا کہ دردست مومنو اگر غیر احمدی بھی مومن تھے تو پھر یہ الہام نعوذ باللہ بالکل لغو اور بے معنی تھا کیونکہ حضرت صاحب کی وفات سے مخالف تو خوش ہوئے تھے انکو ڈرنے کا کونسا موقعہ تھا پس اس جگہ مومن صرف ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو مسیح موعود پر ایمان لے آئی ہیں۔فقد بروا باب چهارم اس باب میں بعض احادیث کا ذکر ہو گا جن سے مسیح موعود کے انکار کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔سود واضح ہوکہ جب آیت و اخرین منهم ماری اورصحابہ کرام نے انصار الا السلام سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ وہ آخرین کون ہیں تو آپنے سلمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ مارکر کیا کہ لو كان الايمان معلقاً بالثريا لناله رجل من فارس۔اس میں ایک باریک اشارہ تھا کہ ایک وقت آئیگا جب ایمان دنیا سے اللہ جائیگا تب اللہ تعالی ایک فارانی سیل انسان کو کھڑا کر کے پھر اس کے ذریعہ سے ایمان کو دنیا میں قائم کریگا۔یہ حدیث سیم موجود است کی طرف سے الہام کی صورت میں بھی نازل ہوئی ہے اور مسیح موعود نے فارسی انسل انسان اپنے آپکو ٹھہرایا ہے پس جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ حقیقت میں اس ایمان لینے سے انکار کرتا ہے جو محمد رسول اللہ صلعم کے ساتھ دنیا میں آیا گر آپ کے ایک عرصہ کے بعد پھر دنیا سے اٹھ گیا۔کیونکہ حدیث مذکورہ بالا صاف طور پر بتا رہی ہے کا ایک وقت آئے گا جب ایمان دنیا سے مفقود ہو جا۔پس اب مسیح موعود کے منکر کو مومن کہنے کا یہ مطلب ہوگا کہ حدیث مذکورہ بالا و حضرت مسیح موعود پر الہام کی صورت پر بھی نازل ہوئی نعوذ باللہ غلط ہے اس لیے ہم اس بات پر مجبور ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے منکروں کو ایران سے محروم قرار دیں کیونکہ ایمان دنیامیں اسی موعود لایا ہے۔جو