کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 54 of 95

کلمۃ الفصل — Page 54

نمبر ۳ ریویو آف ریلیجنز ۱۴۳ اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود نے الذین کفروا غیر احمدی مسلمانوں کو قرار دیا ہے۔فند بردا۔پھر حضرت صاحب کا یہ الہام بھی چھپ چکا ہے کہ :۔یریدون ليطفوا نور الله با فواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون ان العام میں تو صریح کا فر ا لفظ موجود ہے۔یہ الہام بھی حضرت مسیح موعود کو بہت دفعہ ہوا کہ :- و امتازوا اليوم ايها المجرمون یعنی اے مجر مو ! تم بہت مدت سے اسلام کو بدنام کر رہے ہو آج کے دن سے تم کو الگ کر دیا جاتا ہے۔پھر ایک اور الہام ہے جس میں انکار کی گنجائش باقی رہتی ہی نہیں سوائے اسکے کہ الہام کا انکار کردیا جاوے اور وہ الہام یہ ہے قل يا ايها الكفار انى من الصدقین (دیکھو حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۲) اب کہاں ہیں وہ لوگ جن کا یہ قول ہے کہ مسیح موعود کو ماننا جز و ایمان نہیں وہ دیکھیں کہ خدا مسیح موعود کو حکم دیتا ہے کہ تو کہ اے کا فرد میں صادقین میں سے ہوں یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ اس الہام میں مخاطب ہر ایک ایسا شخص ہے جو حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں سمجھتا کیونکہ فقرہ انی من الصدقین اس کی طرف صاف طور پر اشارہ کر رہا ہے۔پس ثابت ہوا کہ ہر ایک جو آپ کو صادق نہیں جانتا اور آپکے دعاوی پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے۔پھر اسکے ساتھ یہ الہام بھی قابل غور ہے کہ قطع دابر القوم الذين لا يؤمنون۔ہمیں حضرت سیح موعود کے منکروں کو قوم کا یومنون کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔پھر حقیقۃ الوحی صفحہ ا پر حضرت صاحب کا یہ الہام درج ہے کہ :۔چه دور خسروی آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند اس الہامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفرہ اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے سلمان تو اس لیے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک لفظ استعمال ہ کیا جا رہے لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ کون مراد ہے مگر ان کے اسلام کا اسلئے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں بلکہ ضرورت ہے کہ انکو پھر نئے سرے سے مسلمان کیا جادے۔پھر حضرت مسیح موعود کا ایک اور الہام ہے جو آپ کو اپنی وفات سے چند دن پہلے