کلمۃ الفصل — Page 31
۱۲۰ كلمة الفصل جلد قرآن کے پیچھے چلنے والے ہیں اگر آپ اس آیت میں یہ الفاظ ہم کو دکھا دیں کہ رسل سے مراد مرت وہی رسول ہیں جو نبی کریم تک مبعوث ہو چکے تو ہم بسر وچشم انے کے لیے تیار ہیں گر ظلم تو یہ ہے کہ آیت کریمہ میں کوئی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ رسل کا لفظ رکھا گیا ہے جو بوجہ نکرہ ہونے کے عمومیت کو چاہتا ہے پیس اب ہم کون ہیں کہ اپنی طرف سے تخصیص کریں اور ایک عام لفظ کو پلا کسی پختہ دلیل کے خاص معنوں میں محدود کر دیں۔در اصل بات یہ ہے کہ ہر ایک زمانہ کے لیے ایمان کی جزئیات مختلف ہوتی ہیں۔فرعون کو موسیٰ سے انکار کے متعلق سوال کیا جائیگا مگر میسی کے بارے میں اس سے کوئی سوال نہ ہوگا یہ اس لیے کہ فرعون کی سطر صرف موسیٰ اور اپنے پہلے گزرے ہوئے انبیا نڈ کو مانا جز و ایمان تھا عیسی کو اتنا بھی جزو ایمان با تاکی کا بھی ایک عینی مبعوث کیا گیا تھا اس طمع عیسی کے راز کےلوگوں کیلئے میٹی کا انا توجہ ایمان ضرور تھالیا بی کریم کا انتا بھی نہ کیا ایمان میں داخل ہوا تھا کیونکہ آپ بھی دنیا میں امر تھے اس طرح نبی کریم کے ان میں میں موجود کو امن امان کا جز نہ تھا مسیح موعود اللہ تعالی طرب رسول نگر گیاتو اسکا مان بھی جن کا بیان یا ایا این که با این امیری کانوں کان کے نام سر کار گیا ہر ایک اصول کے زرنگ پر ہے اور وہ زمانی اور مکانی نہیں بلکہ ہر زمانہ اور ہر جگہ کے لیے ہے اس لیے جب وہ زمانہ آیا کہ امت محمدیہ کے ایک فرد کے سر پر رسالت اور نبوت کا تاج مزین کیا گیا تو اس آیت کے لفظ رسل کے مفہوم میں بھی ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی۔پس یہ کہنا غلط اور بالکل غلط ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں اور تو سارے رسول شامل گر مسیح موعود شان نہیں ہے کیا اس خیال سے اس بات کی بو نہیں آتی کہ کہنے والے کو مسیح موعود کی ذات سے کوئی خاص نقار ہے کہ اُسے اللہ تعالٰی کے اس انعام سے محروم کرنا چاہتا ہے جواللہ تعالی نے خود اسے عطا فرمایا ہے قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفى صدورهم أكبر کیا خلیفہ اول کو مہدی جاننے والے اپنے مہدی کی بات ماننے کو تیار ہیں ؟ وہ سنہیں کہ میں اُس خدا کی قسم کھا کہ کہتا ہوں کہ جسکی جھوٹی قسم کھانا ایک لعنتی آدمی کا کام ہے کہ پینے اپنے کانوں سے حضرت خلیفہ المسیح خلیفہ اول کو اولئك هم الكافرون حقاً