کلمۃ الفصل — Page 30
ریویو آن بالمسجد 119 موجود بھی حقیقی نبی تھا اور جہاں کہیں بھی مستقل نبوت کا ذکر ہے وہاں ایسی نبوت مراد ہے جو کس کی بلا واسطہ بغیر اتباع کسی نبی سابقہ سے بھی ہو ورنہ مستقل کے لغوی معنوں کے لحاظ سے تو ہر ایک نبوت مستقل ہوتی ہے عارضی نہیں اور مسیح موعود بھی مستقل نہی تھا۔فقیر پس اب کوئی شخص مسیح موعود کی فعلی نبوت کا انکار کر دے تو کر دے مگر آپ کو ظلی نبی مانگر پھر اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ آپ کے منکرین کی نسبت وہی فتوئی ہے جو قرآن کریم نے انبیاء کے منکرین کے متعلق بیان فرمایا ہے۔یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ جب مسیح موعود و خدا کا ایک رسول اور نبی ہے تو پھر اسکو وہ سارے حقوق حاصل ہیں جو اور نبیوں کو میں اور اس کا انکار ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالٰی کے کسی اور نبی کا انکار۔اب ظاہر ہے کہ جو شخص مسیح موعود کا انکار کرتا ہے وہ اللہ تعالٰی کے رسولوں میں تفریق کرتا ہے یعنی باقی رسولوں کو تو مانتا ہے۔گر مسیح موعود کو نہیں مانتا اس لیے اسکی طرف یہ قول منسوب نہیں کیا جا سکتا کہ لا نفرق بین احمد من رسلہ کیونکہ اس نے مسیح موعود کے انکار سے رسولوں میں تفریق کر دی پس اس لیے وہ حق نہیں رکھتا کہ اسے مومن کے نام سے پکارا جاوے یہ ہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ ایسے لوگوں کو جو خدا کے بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے پتا کافر کہنا ہے جیسا کہ پارہ ششم کے شروع میں آتا ہے :- ان الذين يكفرون بالله ورسله ويريدون ان يفرقوا بين الله ورسله ويقولون نومن ببعض و نكفر ببعض ويريدون ان يتخذوا بين ذلك سبيلا او ليك هم الكافرون حقا و اعتدنا للفرين عذاب جھینا۔اب کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا انکار و ایمان نہیں ہے امریکہ مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے کفر لازم نہیں آتا وہ خدا برا غور کریں کہ اللہ تعالٰی نے صاف الفاظ میں ایسے لوگوں کو کافر کے نام سے پکارا ہے جو اسکے سارے نبیوں کو نہیں مانتے اور اگر یہ کہا جاوے کہ اس آیت میں رسل سے مراد صرف وہی رسول ہیں جو نبی کر ٹیم تک آپکے اور آپ کے بعد آنیوالا کوئی رسول اس میں شامل نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم تو