کلمۃ الفصل — Page 34
نمبر ۳ ریویو ان المجنز ۱۲۳ شخصوں کی رہے بڑا کافر بیان فرمایا ہے اول وہ جواللہ تعالٰی کی طرف کوئی چھوٹی بات منسوب کرتا ہے؟ شلا کتا ہے کہ مجھے اللہ تعالی نے الہام کیا ہے حالانکہ در حقیقت اسے کوئی الہام نہیں ہوا۔دوسرے وہ جو خدا کے کلام کی تکذیب کرتا ہے جیسے فرمایا ومن اظلم ممن افترى على الله كذباً ، وكذب بانته راس آیت میں ظالم سے کا زمراد ہے اور حضرت مسیح موعود نے بھی ظالم کے یہی معنی کیئے ہیں دیکھو حقیقۃ الوحی محفو ۱۶۳ حاشیہ) اب مسیح موعود کا یہ دعوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نامور ہے اور یہ کہ اللہ تعالی اسکے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے وہ حالتوں سے خالی نہیں۔یا تو دو و نعوذ باللہ اپنے دھوئی میں جھوٹا ہے اور محض افتر کی علی اللہ کے طور پر دعوی کرتا ہے تو ایسی صورت میں نہ صرف وہ کا فریبلکہ بڑا کا فر ہے اور یا مسیح موعود اپنے دعونی امام میں سچا ہے اور خدا کی ہے اس سے ہم کلام ہوتا تھا تو اس صورت میں بلا شبہ یہ کفرا انکار کر نیوالے پر پڑیگا جیسا کہ الله نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔پس اب تم کو اختیار ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان امکہ مسیح موعود پر کفر کا فتونی لگاؤ اور یا مسیح موعود کو سچا مانگر اسکے منکروں کو کا فرجانا کے نہیں ہو سکتا کہ تم دونوں کو مسلمان سمجھو کیونکہ آیت کریمہ صاف بتا رہی ہے کہ اگر می کافر نہیں ہے تو مکذب ضرور کا فی ہے پس خدا را اپنا نفاق چھوڑو اور دل میں کوئی فیصلہ کرو۔دنیا کے اموال چند روزہ ہیں پھر اس خدا کی طرف جانا ہے جسکے دربار کا مسیح موعود ایک معزز کرسی نشین ہے دیکھو دو کشتیوں میں پاؤں نہ رکھو کیونکہ ان سے ایک نے ضرور غرق ہوتا ہے اگر تم کو مسیح موعود کے دعاوی کے متعلق کوئی شکوک پیدا ہو گئے ہیں تو انپر دوبارہ غور کر لو شاید اللہ تعالی مشکلات حل کر دے۔آخر تم احمد کے نام لیوا ہو کچھ تو اسکی عزت کا پاس کر دیغیروں کو خوش کرنے کے لیے تم اس شخص کی شان میں گستاخی کر رہے ہو جسکے نام کے ساتھ خدا کا نام اس زمانہ میں وابستہ ہے لیکن خوب جان رکھو کہ تم اسکے درجہ ہوگا نہیں سکتے کیونکہ للہ تعالی نے اسکے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے کہ انی مهین من اراد اهانتك - الله تعالی تمپر اپنا رحم کرے۔مبشرا برسول یا تی من بعدی اسمہ احمد کی بحث کے لیئے دیکھو باب الهامات حضرت مسیح موعود