کلمۃ الفصل — Page 33
WF کا لفصل جلد ۱۴ اس تحریر سے ہم کو اتنی باتوں کا پتہ لگتا ہے اول یہ کہ حضرت مولوی صاحب کا یہ عقیدہ تھا۔که مسلمان کہلانے کے لیے ایمان بالرسل ضروری ہے دوسرے یہ کہ رسل کے مفہوم میں سارے رسول شامل ہیں خواہ کوئی رسول نبی کریم صلعم سے پہلے آئے یا بعد میں ہندوستان میں ہو یا کسی اور ملک میں۔تیسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود بھی اللہ تعالی کے ایک رسول تھے اور ایمان بارسل میں آپ پر ایمان لانا بھی شامل ہے۔چوتھے یہ کہ جو مسیح موعود کو نہیں مانتادہ اللہ کے رسولوں میں تغفرقہ کرتا ہے اس لیے وہ کافر ہے۔اب کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھا کرتے تھے وہ دیکھیں کہ ذکورہ بالا تحریر ان کے سارے دجالی علیکم پاش پاش کر دیتی ہے میرا یہ مطلب نہیں کہ حضرت مولوی صاحب مقید میں ہمارے لیئے حکم میں کیونکہ حکم صرف وہی ہے جس کو خدا کے رسول نے حکم کے نام سے پکارا ہے نیز میرا ایمان ہے کہ غیر احمد خلیفہ عقائد میں حکم نہیں ہو سکتا اور اس سے اختلاف رکھنا نا جائز نہیں، اس لیے حضرت مولوی صاحب کے عقیدہ کو بیان کرنے سے میرا مطلب صرف اسقدر بتانا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کفر کے مسئلہ میں حضرت میاں صاحب کے خلاف تھے یہ بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے دوسرے چونکہ حضرت مولوی صاحب تمام احمدیوں کی نظر میں دینی علوم کے اُستاد تھے اور رموز قرآن سے خوب ماہر اسلیئے آپ کا عقیدہ اہل حقل کیلئے بہت وزن رکھتا ہے تیرے لیئے اس لیے بھی حضرت مولوی صاحب کے عقیدہ کو بیان کیا ہے تا وہ ان لوگو نیر صحت ہو جو حضرت مولوی صاحب کو آپ کی وفات کے بعد مہدی موعود کا درجہ دینے لگ گئے ہیں۔اب میں پھر اس مضمون کی طرف آتا ہوں جو میں بیان کر رہا تھا یعنی قرآن کریم نے سیح موعود کے منکروں کے لیے کیا فتوی دیا ہے۔میں پہلے بتا آیا ہوں کہ قرآن کریم نے مومن کہلانے کے لیے ایمان بالرسل کو ضروری قرار دیا ہے جیسے فرمایا کا نفرق بین احدا من سلے اور پھر اسی مضمون کی تشریح ایک اور آیت میں یوں کر دی کہ جو شخص بعض رسولوں کو مانتا ہے اور بعض کو نہیں۔وہ پکا کا فر ہے جیسا کہ اوليك هم الكافرون حقا والی آیت سے ظاہر ہے۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہو کہ اللہ تعالی نے اپنے کلام میں دو