کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 88 of 95

کلمۃ الفصل — Page 88

ريو يو أن المجنز ریویوان 166 معنی بتلائے ہیں جیسا کہ لفظ حفاظا ہر کہ رہا ہے۔پس اب معاملہ بالکل صاف ہے شریعیت اسلام کیا کفر کے یہ معنی ہوئے کہ یا اللہ کا انکار کیا جائے اور یا اللہ کے رسولوں کا اور یا اسد کو مان لیا جائے اور یہ سولوں کو نہ مانا جائے اور یا بعض رسولوں کو مانا جانے اور بعض کا انکار کر دیا جائے ہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ یہ کس طرح پتہ لگے کہ کسی عبارت میں کفر لغوی معنوں میں آیا ہے یا اصطلاحی معنوں میں تو اس کا جواب یہ ہے کہ لغت کی کتابوں میں جب کفر کا لفظ آئیگا تو اسکے لغوی معنی کیئے جائینگے لیکن جب خدا اور اسکے رسول کے کلام میں اس کا استعمال ہوگا تو اصطلاحی معنی کیئے جاہیں گے۔ہاں شریعت اسلام کی کتاب میں چونکہ عربی میں ہیں اور کفر کا لفظ عربی زبان سے تعلق رکھتا ہے اس لیے بعض اوقات ان میں بھی یہ لفظ لغوی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے مگر ایسی صورتوں میں اسکے ساتھ کسی واضح قرینہ کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے من یکفر بالطاغوت اس جگہ کفر سے صرف لغوی کفر مراد ہے کیونکہ طاغوت کا لفظ ساتھ لگا ہوا ہے۔پس اس اصل کے ماتحت کوئی دقت پیش نہیں آتی اور سارا جھگڑالے ہو جاتا ہے۔کفر کے مقابل پر جو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے معنی کیئے ہیں یہ ہیں کہ اللہ پرایمان کا یا جاوے اسکے فرشتوں پر اسکے رسولوں پر اسکی کتابوں پر اور یوم آخر پز اس تعریف سے بھی کفر کی تعریف کا پتہ لگ سکتا ہے کیونکہ کفر ایمان کے مقابل ہوتا ہے۔ایمان کی پانچ شرایط میں سے اگر کوئی شخص کسی ایک کا منکر ہو جائے تو اس پر مومن کا لفظ نہیں بول سکتے کیونکہ ایمان کے لیے یہ کافی نہیں کہ صرف ایک شرط کو مان لیا جاوے بلکہ سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔پس اب کیسی بیہودہ بات ہے کہ " جب ایک شخص اللہ تعالی کی توحید پر ایمان لے آتا ہے تو وہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے یا دیکھو رسالہ مذکور صفوم) گویا کہ سلمان بننے کے لیے نبی کریم کا مانا بھی ضروری نہیں۔نعوذ بالسد من ذکمک۔اللہ تعالٰی تو فرماتا ہے کہ شریعت اسلام کی اصطلاح میں وہ جو اللہ تعالیٰ کو مان لے مگر اس کے رسولوں کو نہ مانے وہ حقیقی کا فر ہے مگر مولوی محمد علیمیت لکھتے نہیں کہ مسلمان بننے کے لیے کسی رسول کو ماننے کی ضرورت نہیں صرف توحید کا قائل ہو جانا کافی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب نے کفر کے صرف لغوی معنوں کو مد نظر رکھا۔ہے اور اصطلاحی معنوں پر غور نہیں کیا۔تب ہی تو وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جو