کلمۃ الفصل — Page 89
16A للفصل جلدم لا اله الا اللہ کا اقرار کر کے کسی اور حصہ کو چھوڑتا ہے وہ دائرہ کے اندر تو ہے مگر اس خاص حصہ کا کافر ہے (دیکھو رسالہ صفحہ ۴ ) اگر لفظ کفر کے صرف لغوی معنوں کا خیال رکھا جائے تومولوی صاحب کی یہ رائے بالکل صحیح اور درست ہے کیونکہ ایسی صورت میں واقعی جس حصہ کو انسان با نتا ہے اس کام میں کہا گیا اور میں کا انکار کرتا ہے اس کا کافر۔مگر سوال تو اصطلاحی کفر اور اصطلاحی ایمان کا ہے نہ کہ لغوی کفر اور لغوی ایمان کا جس پر اصطلاحی طور پر کفر کا لفظ عاید ہو وہ کسی صورت میں بھی اصطلاحی مومن نہیں ہو سکتا اسی طرح جسر اصطلاحی معنوں میں مومن کا لفظ آئے وہ کسی صورت میں بھی اصطلاحی کافر نہیں کہلا سکتا ہیں جب اللہ تعالٰی نے ہر ایک ایسے شخص کو جو خدا کو تو مانے مگر رسولوں کو نہ مانے یا بعض رسولوں کو مانے اور بعض کو نہ مانے کافر کے نام سے پکارا ہے تو یہ کیسا بے معنی فقرہ ہے کہ جوخدا کو مائکر کسی اور حصہ کو چھوڑتا ہے وہ مومن تو ہے گر اس خاص حصہ کا کافی ہے۔معلوم نہیں مولوی صاحب نے یہ کہاں سے اصول نکالا ہے کہ اسلام میں آنے کے لیے صرف توحید کا قائل ہونا کافی ہے شاید قل اللہ ہم ذرهم والی آیت نے اسی مضمون پر کوئی خاص روشنی ڈالی ہو واللہ اعلم۔اچھا مولو یقینا آپ اس صحیح حدیث کے کیا معنے کہتے ہیں جو مشکوۃ کی کتاب الایمان میں درج ہے اور وہ یہ کہ عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال 5۔بينما نحن عند رسول اللہ صلی الله عليه وسلم ذات يوم اذ طلع علينا حل شدید بیا ضر الشباب شدید سواد الشعر لا يرى عليه اثر السفر ولا يعرفه منا احد حتى جلس الى النبي صلى اللہ علیہ وسلم فأسند ركبتيه إلى كبتيه ووضع كفيه على فخذيه وقال يا محمد اخبرني عن الاسلام قال الاسلام ان تشلا لا اله الا الله وان محمدا رسول الله وتقيم الصلوة وتولى الذكورة وتصوم رمضان وتجمع البيت ان استطعت اليه سبيلا قال صدقت۔اس حدیث میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ اسلام میں آنے کے لیے لا اله الا اللہ پر ایمان لانا کافی نہیں بلکہ محمد رسول اللہ پر ایمان لانا بھی ضر در سی ہے اللہ یہ صرف نبی کریم کا خیال ہی نہیں بلکہ اسپر اصہ تعالیٰ کی طرف سے بھی شہر صداقت ہے کیونکہ سوال کر نیوالا جبریل تھا جسکو اللہ تعالیٰ نے آدمی کی شکل میں متمثل کر کے زمین پر بھیجا تھا۔