کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 8 of 95

کلمۃ الفصل — Page 8

ریویو آن را میجنز نچہ اسے یاد بھی نہ ہو گا یہی حال انبیاء کی تعلیم کا ہے۔جب وہ دنیا میں آتے ہیں تو اپنے جذب اور روحانی قوت سے سعید روحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اوران کی تعلیم وگوں کے دلوں کے اندر گھر کر جاتی ہے لیکن اس کے بعد اک مدت گذر جانے پرکچھ تو انکی تعلیم ہی وجود بعض بیرونی عناصر کے ساتھ لیجانے کے اپنی حقیقت کو کھو بیٹھتی ہے اور کچھ کسی کامل روحانی وجود کے نہ ہونے کی وجہ سے اس مذہب کے متبعین کے دلوں پر رنگ بیٹھ جاتا ہے اور اسکے جوش ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور دنیا کی محبت انکے رگ وریشہ میں رچ جاتی ہے تب آسمان پر ایک بنگل بجایا جاتا ہے جو آنیوالے رسول کی منادی کرتا ہے اور سو نیوالوں کو خواب غفلت سے بیدار کر دیتا ہے اور پھر وہی وایت سے محروم رہتا ہے جسکو اسکی بدبختی نفس نے جسم کے لیے تیار کیا ہو کیونکہ مربی کی ست کے وقت اللہ تعالی کا ارادہ ہوتا ہے کہ تمام ان دکھوں کو جن میں سعادت کا کوئی مادہ ہو ایک جگہ جمع کرے پس یہ یقینی اور قطعی طور پر یقینی ہے جواللہ تعالیٰ کے کسی امور کی مخالفت پر مرتا ہے وہ سعادت کے مادہ سے بالکل خالی ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالی اور رفع کرتا اور نہ تمام مرسلین ایک ہی رنگ میں ہوتے ہیں اسلئے یہ کہنا صحیح ہے کہ اگر موسی کو نہ ماننے والے میسی کا وقت پاتے تو اس کا بھی انکار کرتے اور اگروہ نبی کریم کے زمانہ میں پیدا کیئے جاتے تو آپ کی مخالفت ہے بھی کھڑے ہو جاتے۔اسی طرح ایمان لانے والوں کا حال ہے۔پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ نبی کریم صلعم کے زمانہ کے سبھی لوگ حقیقت میں سیمی نہ تھے بلکہ وہ صرف اس لیئے مسیحی تھے کرا اباؤ اجداد مسیح کے متبع تھے ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک واقعی سیمی ہوتے توجہ ور تھا کہ انکے پاس منہاج نبوت کا پورا علم ہوتا اوروہ نبی کریم کی آواز پر نور لیک کر اٹھتے۔اسی طرح دو جنہوں نے عیسی کا انکار کیا در حقیقت موسیٰ کے پیرو نہ تھے بلکہ صرف اسمی اور رسمی طور پر یو کی جماعت میں داخل تھے اور ایمان انکے دل سے پرواز کر چکا تھا ورنہ کیا وجہ ہے کہ ان کو سیٹ پر ایمان لانے کی توفیق نہ ملی غرض ایسے ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر مجھ لینا چاہئیے کہ و اللہ تعالیٰ کے ایک مامور کا انکار کرتا ہے وہ اگر دوسرے کسی مامور کے زمانے میں ہوتا تو ضرور اس کا بھی انکار کرتا کیونکہ اللہ تعالٰی کے تمام مرسلین منہاج نبوت پر پرکھے جاتے ہیں اللہ ہر ایک زمانے میں انکے شناخت کرنے کا فریق ایک ہی ہوتا ہے پس وہ جسکے معیار کے