کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 76 of 95

کلمۃ الفصل — Page 76

نمبر ۴ ریویو است المجنز 190 بن گئے اس لیے آپنے تحریر مندرجہ بالا میں سب سے پہلی یہ شرط لگائی کہ مخالف میرے مسلمان ہونے کا اعلان کرے۔دوسری دلیل آپ کی یہ ہوا کرتی تھی کہ چونکہ وہ لو جو مجھ کو کافر نہیں کہتے ان تمام لوگوں کو مسلمان سمجھتے ہیں جنہوں نے مجھ پر کفر کافتونی لگایا ہے اور اس طرح کا فروں کو مومن سمجھنے سے خود کافر ہو جاتے ہیں اس لیے دوسری شرط آپنے یہ لگائی کہ وہ میرے تمام مکفرین کو کافر جانے اور اس بات کا بذریعہ اشتہا ر ا علان کرے۔تیسری دلیل حضرت مسیح موعود یہ دیا کرتے تھے کہ چونکہ ہر ایک دو شخص جو مجھے کو قبول نہیں کرتا مجھے مفتری علی اللہ قرار دیتا ہے اور مفتری علی الله نہ صرف کا ف بلکہ بڑا کافر ہوتا ہے اس لیے وہ میری تکفیر کر کے خود کا فر ہو جاتا ہے علاوہ اس کے چونکہ میرا مخالف آیات اللہ کی تکذیب کرتا اور آیات کی تکذیب کرنے والا موجب آیت و من اظلم همن افترى على الله كذبا او كذب بایتہ صرف کا بلکہ بڑا کافر ہے اس لیئے حضرت مسیح موعود نے اس دلیل کے مقابل اس شرط کو رکھا کہ ایسا اشتہار دینے والا ان کھلے کھلے نشانوں کو بھی سچا جانے جو اللہ تعالیٰ نے آپکے ہاتھ پر ظاہر کیئے۔چوتھی دلیل حضرت مسیح مد عود یہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ چونکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرسل ہوں اس لیے ہر ایک جسکو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھ کو نہیں مانادہ مسلمان نہیں ہاں مجس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے رجسکی بنا ظاہر ہے ہے اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اسکو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک موجب آیت کا یكلف الله نفسا إلا وسعها قابل مواخذه نہیں ہوگا۔(دیکھو حقیقت الوحی صفحہ ۱۸) اس دلیل کے مقابل حضرت صاحب نے یہ شردا رکھی کہ اشتہار دینے والا منافق نہ ہوجس سے مراد یہ ہے کہ وہ ظاہر طور پر سبعیت بھی کرلے جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں۔خلاصہ کلام یہ کہ حضرت سیح موعود نے بڑے اس طریقہ پر اپنے مخالفین پرحجت قائم کی ہے اور انکو ایک ایسی بات پر آمادہ کرنا چاہا۔ہے جو درجہ بدرجہ انکو احمدیت کے اند فتد بردا نواں اعتراض یہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعود کا نبوت کا بھی دعوی تھا تو کیوں آپ نے سات توپر اس بات کو نہیں لکھا کہ میرے نہ ماننے سے چونکہ خدا کے رسولوں میں تفریق ہوتی ہے اس لیے میرا ے نشانات کو مانے کا دعوی کر کے بیعت کرنیوالے کا نام ہنے منافق اس دے رکھا ہو کے نشانات کو احمد تعالی نے حضرت ان کر کے اسے مانتاہور ہے کہ انکی گواہی پر سچے دل سے ایمان بھی لائر یعنی آپکو آپکے تمام دعاوی جب حضرت مسیح موعود کا یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ میری بیعت اور تعالٰی کی دق جانتا ہو اور پھر باقاعدہ سلسلہ میں داخل نہ ہونا صکر ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہو۔منہ