کلمۃ الفصل — Page 75
۱۶۴ کا لفصل جلد ۱۳ کے ارشاد کے ماتحت اسے مسلمان سمجھ لیں گے بشرطیکہ اس میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جائے گرمی ہی ہے کہ اس حوالے کی وہی تاویل ہے جو او پر لکھی گئی حضرت صاحب نے در حقیقت اس تحریر میں تمام ان دلائل کو جمع کیا ہے جو آپ وقتاً فوقتاً غیر احمدیوں کے کفر کے متعلق بیان فرماتے رہے۔پہلی دلیل آپ یہ دیا کرتے تھے کہ مخالف مجھ پر کفر کا فتوی لگا کر موجب حدیث صحیح خود کار حاشیه متعلق صفحه 14۔ایک شہادت ر روی عبدالکریم صاحب کی زندگی میں راتای لای لالو واسلام ایک مولانا کے بینی باران میں تشریف لار اور فرمایاکہ آج میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ قرآن شریف کی وحی اور اس سے پہلی وحی پرایمان کا نی کا ذکر تو قرآن شریف میں موجود ہے۔ہماری دی پر ایمان ان کا ذکر کیوں ہیں اس امر پر توجہ کر رہا تاکہ خدا ای کی طرف سر بطور القاء کے سیکا ایک پیٹرول میں یہ بات ڈالی گئی کہ آیہ کریمہ والذین یومنون بما انزل اليك و ما انزل من قبلك وبالأخرة هم يوقنون میں تینوں وجیوں کا ذکر ہے۔ما انزل الیسان سو قرآن شریف کی وحی اور مانزل من قبلك سر انبیاء سابقین کی دھی اور آخرقہ سے مراد مسیح مونود کی بھی ہے۔آخر کرنے میں مجھے آنیوالی وہ مجھے ایوالی چیز کیا ہے سیاتی کلام سے ظاہرکی کہ ہاں مجھے آنیوالی چیز سر مراد وحی پر قرآن کریم کے بعد نازل ہوگی۔کیونکہ اس سے پہلو دیوں کا ذکر ہے۔ایک جو انحضرت صلی اللہ علیہ سلم پر نازل ہوئی۔دوسری جو آنحضرت مسلم سے قبل نازل ہوئی اور میری وہ جو آپکے بعد آنیوالی تھی حضرت مسیح موعود نے بہت دیر تک اسی مضمون پر بڑی درس گنگو وائی اور بڑے دانت یقین کے ساتھ بظاہر ا ا ا ا ا اخر هم یو فنون میں امری ہی وحی کا ذکر ہے۔پینے اسکے بعد حضرت خلیفہ الیسع اول مر بھی اپنے درس میں ہی معنی بیان فرماتے ہوئے ہر اور مولوی مد علیہما نے اپنی نگریزی ترجمہ کا پلا پر بھی دیکھنے کیلیے دیا تواسوقت بھی تیز حضرت مسیح موعود کے یعنی انکو ٹا ئی تھے اور اس معلوم ہوا تھا ان کو بھی ضرت مسیح موعود کے ان مونکی پر علم ہے اگر اس بات کا ذکر کردینا بھی نامعلوم ہو کہ کہ حضرت اقدس علیہ الصلوة و السلام کی عیادت تھی کہ جب کوئی نیا انکشاف یا نئی دلیل یا نا ا ن ا ر نو او مسجد مینی جاتے ہی مسکر متعلق بڑے زور سحر تقریر شروع کر دیتے تھے۔اس روز بھی اسی طرح ہوا۔اور آپ نے اس دن اس مضمون پر سی طریق سر گفتگو فرمائی جب آپ کسی اور انکشاف کے وقت توری و ایاکرتے تھی جسکو بہت ہی ضروری خیال فرماکر اپنی دائم نایا کرتے تھے یہی ہے کہ حضور کی وہ تقریر اس وقت تک میری دل من میخ فولاد کی طرح گاڑی ہوئی اور کبھی نہیں بھائی کا شیر علی ۱۰- دریل شام تشریف