کلمۃ الفصل — Page 65
۱۵۴ کا لفصل۔جلد ۱۴ میں آیا ہے کہ فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذب بأيته یعنی دو شخص سب سے بڑھکر کا فر ہمیں ایک وہ جو خدا پر افترنی کرتا ہے دوسرے وہ جو خدا کے کلام کی تہذیب کرتا ہے پس اس لیئے ہر ایک وہ شخص جو حضرت صاحب کو نہیں مانتا آپکو کا فر قرار دیتا ہے اس لیے خود کافر ہو جاتا ہے اور یہی ہمیشہ سے حضرت صاحب کا عقیدہ ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود او ائل زمانے میں اپنے منکروں کو صرف اپنے انکار کی وجہ سے کا نہیں کہتے تھے لیکن انکو اپنی تکفیر کی وجہ سے ضرور کافر قرار دیتے رہے اور یہ یاد رہے کہ آپ کے خیال میں تکفیر کرنے والا ہر ایک وہ شخص ہے جو آپ کو نہ مانے جیسا کہ آپ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۳ پر لکھتے ہیں کہ یہ خدا کے نزدیک کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے ایک ہی قسم کے انسان میں کیونکہ جومجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری علی اللہ قرار دیگر میری تکفیر کرتا ہے کہ یہ تو وہ عقیدہ ہے۔جو حضرت صاحب کا شروع سے لیکہ آخر یک رہا لیکن آپ کا دوسرا عقیدہ کہ میرے انکار کی وجہ سے کفر لازم نہیں آتا اللہ تعالیٰ کے الہام نے بدل دیا جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں۔اور اس تبدیلی عقیدہ کی یہ وجہ تھی کہ آپ اوائیل میں اپنی نبوت کو جزوی نبوت سمجھتے رہے۔مگر بعد میں اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی نے آپکے اس خیال کو بدل دیا اور آپ کو اس بات پر مجبور کیا کہ آپ اپنے آپ کو کامل ظلی نبی کے طور پر پیش کریں جس کے انکار سے انسان بموجب آیت أو ليك هم الکافرون حقا کا فر ہو جاتا ہے۔فقد بروا دوسرا یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ایک کلمہ گو کس طرح کا فر ہو سکتا ہ اور غیر اناری سلمان تمام کلمہ گو ہیں وہ مسیح موعود کے انکار کس طرح کا ر ہو جائینگے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے ہاں جسکے اندر خود کوئی کفر کی وجہ پیدا ہو جائے اسے کس طرح مومن جان سکتے ہیں۔غور کا مقام ہے کہ اگر ایک کلمہ گود و سر کلمہ گو کو کافر آکر خود کافر ہو جاتا ہے تو کیوں وہ کفر کی کسی اور وجہ کے پید اہو جانے سر کافر نہیں ہو سکتا مثال کے صوبہ پر دیکھو زید اور بکر دو کلمہ گو مسلمان ہیں ان میں سے زید بغیر کسی کافی ثبوت کے بکر کو کافر کہتا ہے تو زید بموجب فتوئی حضرت نبی کریم با وجود