کلمۃ الفصل — Page 51
۱۴۰ كلام يفصل جلد ۱ ہزار پنجم تھا جو ہم محمد کا منظر تجلی تھا یعنی یہ بحث اول جلالی شان ظاہر کرنے کے لیے تھا مگر بعث دوم جس کی طرف آیت کریمہ واخرین منهم لما لحقوا بهم میں اشارہ ہے وہ مظہر محتی اسم احمد ہے جو آسم جمالی ہے جیسا کہ آیت مبشرا برسول یا تی من بعدی اسمه احمد اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اس حقیقت کو حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب المجاز المسیح میں بھی بڑی وضاعت کے ساتھ بیان کیا ہے اور کھو کر کھو کہ بتایا ہر کہ نبی کریم کے دو بعث ہیں۔بحث اول میں اسم محمد کی تجلی تھی مگر بحث دوم اسم احمد کی تخلی کے لیے ہے ناظرین کو چاہیے کہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں کیونکہ یہ معارف قرآنیہ کا ایک خزانہ ہے (دیکھو اعجاز المسیح از صیفی ۱۰۰ تا ۱۲۴ ) اس موقعہ پر ایک عجیب نکتہ یا د رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہکہ نبی کریم کی دونون بخشیں آپ کے دنیا میں آنے سے پہلے بتائی جاچکی تھیں۔چنانچہ موسی علیہ السلام جو جلالی صفت میں ظاہر ہوئے تھے انہوں نے نبی کریم کی پہلی بعثت مینی محمد کی پیشگوئی کی۔لیکن چونکہ عینی و جمال کا پہلے عطا کیا گیا تھا اس لیے انہوں نے نبی کریم کی دوسری بعثت یعنی احمد کی پیشگوئی کی۔اس بات کو حضرت مسیح موعود نے اعجاز المسیح صفحہ ۱۲۳ پر بیان کیا ہے چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ : " ثم من عجائب القرآن أنه ذكر اسم احمد حكاية عن عيسى وذكر اسم محمد حكاية عن موسى - ليعلم القارئ ان النبي الجلالى اعـ موسیٰ اختار اسما یشا به شانه اعنى محمدن الذى هو اسم الجلال وكذالك اختار عينى اسم احمد الذى هو اسم الجمال بما كان نبيا جماليا وما اعطى له شى من القهر و القتال فحاصل الكلام ان كلا منهما اشار الى مثيله التام آنجاہ کوئی صاحب یہ دھد کا نہ کھا جائیں کہ شاید حضرت مسیح موعود کا اس عبارت سے یہ مطلب ہو کہ حضرت موسیٰ اور عیسی علیہم السلام نے نبی کریم کی پہلی بعثت کے متعلق ہی دو مختلف پہلوؤں کے لحاظ سے پیشگوئی کی ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ:- " و اشعار عیسی