کلمۃ الفصل — Page 50
نمبر ۳ ریویو آف امیجز ان تمام الہامات میں اللہ تعالی نے مسیح موعود کو احمد کے نام سے پکارا ہے۔دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود بیعت لیتے وقت یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آپنے اپنی جماعت کا نام بھی احمدی جماعت رکھا۔پس یہ بات یقینی ہے کہ آپ احمد تھے۔اب معاملہ بالکل صاف ہے قرآن شریف سے سورۃ صف نکال کر دیکھ لوکہ احمد کے نہ ماننے والوں کے لیے کیا فتویٰ ہے۔وہاں صاف لکھا ہے که والله متم نوره ولوکرۃ الکافرون۔یہ آیت حضرت مسیح موعود پر اسلام کی صورت میں بھی اتر چکی ہے جن سے اس خیال کو اور بھی تقویت پہنچتی ہے۔جگہ کسی کو ید و هم به گذرے کہ ہم نعوذ باللہ ہی کریم مسلم کو احمد نہیں مانتے۔ہمارا ایمان ہے کہ آپ احمد تھے بلکہ ہمارا تو یہاں تک خیال ہے کہ آپکے سوا کوئی احمد نہیں ہے اور نہ کوئی احمد ہو سکتا ہے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا آپ اپنی پہلی بعثت میں بھی احمد تھے ؟ نہیں بلکہ آپ اپنی پہلی بیشت میں محمدیت کی بھلائی صفت میں ظاہر ہوئے تھے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سورۃ صف میں کسی ایسے رسول کی پیشگوئی کی گئی ہے جو احمد ہے پس ثابت ہوا کہ یہ پیشگوئی نبی کریم کی پہلی بعثت کے متعلق نہیں بلکہ آپ کی دوسری بعثت یعنی سیج موجود کے متعلق ہے کیونکہ سیح موعود جمالی صفت کا منظر یعنی احمد ہے۔اس حقیقت کو خود حضرت یہ و علیہ اسلام نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ صفحہ اس پر بیان فرمایا ہے چنانچہ آپ لکھتے ہیں : " آیت مبشرا برسول ياتي من بعدي اسمه احمد میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کا آخری زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہوگا گویادہ اسکا ایک ہاتھ ہوگا۔جس کا نام آسمان پر احمد ہو گا اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جمالی طور پر دین کو پھیلا ئیگا یا پھر اس تحریر پر ایک حاشیہ لکھا ہے جس میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : "چونکہ خداتعالی و منظور تھا کہ یہ دونوں صفتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے اپنے وقتوں میں فلموں پذیر ہوں اس لیئے خدا تعالی نے صفت جلالی کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ ظاہر فرمایا اور صفت جالی کو سیح موعود اور اسکے گروہ کے ذریعہ سے کمال تک پہنچایا۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے وآخرين منهم لما يلحقوا بهم پھر اسی کتاب تختہ گولڑویہ کے صفحہ ۶ ۱۵ پر حضرت مسیح موعود لکھتے ہیں کہ : " انحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ