کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 5 of 95

کلمۃ الفصل — Page 5

۹۴ ك يفضل جارہی کے لیے ایمان کا لفظ ہے اس لیئے مان لینے والی جماعت مومنین کی جماعت کہلاتی ہے اور چونکہ انکار کر دینے کے معنی عربی زبان میں کفرکے ہیں اس لیئے انکار کرنے والے لوگ کا ذہ کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔اس میں کسی کی بہتک عزت مراد نہیں ہوتی ہے بلکہ صرف امر واقع کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ اگر کسی کو مومن کہتے ہیں تو اس سے ہمارا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس نے ان کیا ہے اور اگر گئی کافم کے نام سے یاد کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد فقط ہی ہوتی ہے کہ اس نے امکانہ کر دیا ہے ہاں جگہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بہت سے الفاظ ایسے ہوتے جو اپنے لغوی معنوں کے علاوہ ایک اصطلاحی مفہوم بھی اندر رکھتے ہیں لیکن یہ ضروری ہوتا ہے کہ اصطلاحی سنی لندی معنوں پر منی ہوں کیونکہ اگر ایسا ہو تو اصطلاحات کے مفہوم کو سمجھنا سخت مشکل امر ہو جاوے مال کے طور پر دیکھو تو بی زبان میں رسول اس شخص کو کہتے ہیں جو ایک کی طرف سے دوسرے کی طرف پیغامبر بناکر بھیجا جاوے اور بنی اس شخص کو کہتے ہیں جو کوئی خبر دیوے کیونکہ بی کا لفظ باما سے نکلا ہے جسکے معنی خبر کے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انٹونی باسماءها ولاء ان کنتم صادقین پس گفت کے لحاظ سے جائزہ ہو گا کہ ہر پیغامبر کو رسول اور ہر خبر دینے والے کونبی کے نام سے پکارا جاوے۔لیکن میں ابھی بتا آیا ہوں کہ لغوی معنوں کے علاوہ بعض الفاظ کے اصطلاحی معنے بھی ہوتے اب اگر شریعت اسلام کی اصطلاح میں ورسول اور نبی کے الفاظ کے سنے دیکھے جاویں تو معلوم ہو جائیگا کہ رسول کہتے ہیں اس فرد کامل کو جبکہ اللہ تمام اہل دنیا کی طرف پیغامیر بنا کر بھیجے اور جسے امور بیت کا خلعت عطا کر کے خلق اللہ کی ہدایت کیلئے کھڑا کرے اور پھر اسی پر میں نہیں بلکہ یہ ضروری ہے کہ ایسے شخص کو اللہ تعالی کی طرف سے بھی رسول کے نام سے پکارا گیا ہو کیونکہ شریعیت اسلام میں رسول کی اصطلاح کا مفہوم پورا نہیں ہوتا جب تک خدائی سند ساتھ نہ ہو۔یہی حال ہے لفظ نبی کا کوئی شخص شریعت کی اصطلاح میں بھی نہیں کہلا سکتا جب تک کہ وہ اللہ تعالی سے مامور کی حیثیت میں بکثرت ہم غریب پاکر لوگوں تک پہنچاہے اور جب تک اللہ تعالٰی کے کلام میں اسکے متعلق صریح طور پر نبی کا لفظ نہ آیا ہو اسی طرح اسلام میں کفر اور ایمان کے الفاظ کے معنی ایک خاص دائرہ میں محدود ہو گئے ہیں روہ یہ کہ شریعت اسلام میں کا فراسکو گئیں گے جو اسلام کے ان اصول میں سے جن پر اسکی ے یعنی ان الفاظ کی اصل یعنی روٹ کی بنا پر میںدو نہ دی تو انکی تشریح میں نعت بھی اصطلاحی مخوف کا ذکر کریگی