کلمۃ الفصل — Page 36
نمبر ۳ ریویو آن سلمجز ہوئے کار ہم حضرت میں موجود کی شروع کی کتابوں میں کسی ایسی تحریر کو پڑھیں میں میں لکھا ہو کہ میرے انکار سے کفر لازم نہیں آتا تو ہم کو دھوکا نہ کھانا چاہیئے کیونکہ بعد میں حضرت مسیح مولود کی اس رائے کو اللہ تعالٰی نے اپنے الہام سے بدل دیا جب کہ خود حضرت مسیح موعود عبد الحلی ایران مرتد کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :- ہر حال جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جسکو سری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے خدا کے حکم کو چھو دوں۔اس سے سہل تر بات یہ ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں۔ہاں اگر کسی وقت صریح الفاظ میں اپنی تو بہ شائع کریں اور اس خبیث عقیدہ سے باز آجاویں تو رحمت اسمی کا دروانی کھلا ہے۔وہ لوگ جو میری دعوت کے رد کرنے کے وقت قرآن شریف کی نصوص۔یہ کو چھو ہیں اور خدا تعالٰی کے کھلے کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں انکو را استنبازہ قرار دینا اسی شخص کا کام ہے جس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے ؟ حضرت مسیح موعود کی اس تحریر سے بہت سی باتیں حل ہو جاتی ہیں اول یہ کہ حضرت صاحب کو اللہ تعالی نے الہام کے ذریعہ اطلاع دی کہ تیرا انکار کرنے والا مسلمان نہیں اور نہ صرف یہ اطلاع دی بلکہ حکم دیا کہ تو اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھے۔دوسرے یہ کہ حضرت صاحب نے عبد الحکیم خان کو جماعت سے اسواسطے خارج کیا کہ وہ غیر احمدیوں کومسلمان کہتا تھا۔تیسرے یہ کہ مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہنے کا عقیدہ ایک خبیث عقیدہ ہے۔چوتھے یہ کہ جو ایسا عقیدہ رکھے اسکے لیے رحمت الہی کا دروازہ بند ہے۔پانچویں یہکہ جو شخص مسیح موعود کی دعوت کو رد کرتا ہے وہ قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے اور خدا کے کھلے نشانات سے منہ پھیرتا ہے۔چھٹے یہ کہ جو مسیح موعود کے منکروں کو راستبانی قرار دیتا ہے اس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے۔اب کون ہے جو مسیح موعود کی کسی پہلی تحریر کو پیش کر کے آپ کے انکار کی اہمیت کو گرانا چاہے۔کیا وہ ایسے شخص کے